لاہور۔24 فروری(اے پی پی )صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریکوں کے پیچھے پاکستان کے ملوث ہونے کا بھارتی پراپیگنڈا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے ،جب بھی بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی ہم نے امن کا پیغام دیا، آزادی کشمیر وہاں کی عوام کے امنگوں کی تحریک ہے، پاکستان نے پوری دنیا کو پیغام دیا کہ ہم امن پسند قوم ہیں ،جس طرح ہم نے 51 لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی اس کی مثال بھی پوری دنیا کے سامنے عیاںہے، وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کیلئے عالمی سطح پرجو کردار ادا کیا اس پرانہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔وہ پیر کو نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام 12ویں سالانہ سہ روزہ نظریہ پاکستان کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اب ایک مضبوط اور مستحکم ملک بن کر آگے کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہم نے ہمیشہ پوری دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے جس کی واضح مثال ہم نے 51 لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی اور ابھی بھی 27 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے جب بھی پاکستان پر جنگ مسلط کی تو ہم نے ہمیشہ بھارت سمیت پوری دنیا کو امن کا پیغام دیا، بھارت نے پاکستان پر فضائی حملہ کیا تو ہم نے اس کا طیارہ گرا کر پائلٹ کو بحفاظت اس کے حوالے کر دیا، اس سے بھارت سمیت پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہم امن کو فروغ دینے والی قوم ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ بھارت اپنی ہی قوم کو تباہ کرنے کے راستے پر چل رہا ہے لیکن ہمیں اس بات کی خوشی نہیں کیونکہ وہاں مسلمانوں کو جب بھی نقصان پہنچے گا اس کا ہمیں دکھ ہو گا، فلسطین سمیت پوری دنیا میں جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہوتا ہے تو اس کا درد ہماری قوم کو بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ وہاں مغلیہ حکومت قائم رہی ہے اس کا بس چلے تو وہ تاریخ مسخ کر دے اور اس کے اوراق تک پھاڑ دے مگر بھارت کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ کشمیریوں کو آزادی ان کی امنگوں کے مطابق ملنی چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ کشمیر میں جب بھی آزادی کی تحریک چلی تو بھارت نے دنیا کے سامنے پراپیگنڈہ کیا ہے کہ اس کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے مگر اب آہستہ آہستہ یہ بات پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکی ہے کہ کشمیر کی آزادی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی دعووں کے مطابق اگر کشمیر میں سب اچھا ہو رہا ہے تو بھارت کو پوری دنیا کے نمائندوں کو کشمیر آنے کی اجازت دینی چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں رہنے والوں کو اپنے رشتہ داروں سے بھی ملنے کی اجازت ملنی چاہیے، بھارت نے تو اپنے اپوزیشن لیڈروں سمیت غیر ملکی مبصرین کو کشمیر جانے سے روک رکھا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بھارت کشمیریوں کے ساتھ کتنا مخلص ہے اور سب اچھا والی بات میں کتنی حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کبھی بھی تعلقات اچھے نہیں رہے اور اس نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کو نئی نسل میں روشناس کرنے کی اشد ضرورت ہے، ہمیں دنیا کو مسلسل بتانا ہو گا کہ بھارت کشمیر میں کیا مظالم ڈھا رہا ہے، کیا ایک لاکھ کشمیریوں کی قربانیاں کافی نہیں ۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں مشکل حالات اور آزمائشوں پر قابو پا لیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ہم ایک مستحکم قوم بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم قائداعظم اور علامہ اقبال کے نظریے کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ابھی بھی ہمیں بہت سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔