اسلام آباد ۔ 14 فروری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مستقبل میں اشیاء ضروریہ کی قلت سے بروقت خبردار کرنے اور قیمتوں میں اضافہ روکنے کیلئے مناسب طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے، اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ سے بچا جا سکتا تھا، آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافہ، جس کی وجہ سے حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار ہے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا اور پتہ چلایا جائے گا کہ ایسا کیوں ہوا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وزیراعظم ہائوس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے قیمتوں میں حالیہ اضافہ کی وجوہات کے حوالہ سے اپنی رپورٹ دی ہے تاہم انہوں نے اس حوالہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کی روشنی میں حقائق عوام کے سامنے لائیں گے اور ایسا نظام وضع کریں گے کہ دوبارہ یہ مسئلہ پید انہ ہو۔ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی طرف اٹھنے والی انگلیوں کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ رپورٹ میں کسی کا نام نہیں، رپورٹ میں خامیاں ہیں اور ہم نے اس حوالہ سے زیادہ جامع رپورٹ طلب کی ہے۔ وزیراعظم کی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئی جبکہ حکومت نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے بہت سے اقدامات کئے ہیں، یوٹیلٹی سٹورز پر 15 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے اور غریب طبقہ کیلئے راشن کارڈز کا اجراء اور اس کوتاہی کے حوالہ سے ذمہ داروں کا تعین کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کے ہر شعبہ میں کارٹیلز موجود ہیں۔ وزیراعظم نے مسابقتی کمیشن کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا جس نے اپنے فرائض درست طریقہ سے ادا نہیں کئے۔ وزیراعظم اس معاملہ سے نمٹنے کیلئے پرعزم نظر آئے کیونکہ ان کے کسی معاملہ سے کسی قسم کے کاروباری مفادات وابستہ نہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی مثال دی جس کی غیر فعالیت کی وجہ سے سعودی عرب سے پانچ ہزار ڈاکٹروں کو جبری واپس آنا پڑا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم نے اس صورتحال کو بدلنے کی کوشش کی تو جعلی ڈگریوں اور مشکوک میڈیکل کالجوں والا پورا مافیا حکومت کے خلاف متحرک ہو گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت سینٹ کے انتخابی قوانین میں ضروری تبدیلیاں لائے گی اور ووٹنگ کیلئے ”شو آف ہینڈز” کا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا تاکہ خفیہ رائے شماری کا موجودہ طریقہ کار تبدیل کیا جائے جس کے باعث پیسے لینے کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خیبرپختونخوا اسمبلی سے تعلق رکھنے والے 20 ارکان صوبائی اسمبلی کو اسی لئے فارغ کیا کیونکہ ہمیں پتہ چلا کہ انہوں نے اپنے ووٹ بیچے۔ انہوں نے کہا کہ میری حکومت ایک شفاف نظام لانا چاہتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انتخابی قوانین میں تبدیلی اور جدید بائیو میٹرک ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے بھی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ہارنے والا یہ الزام نہ لگا سکے کہ اس کے ساتھ دھاندلی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن دھاندلی کے بے بنیاد الزامات عائد کرتی رہی ہے اور وہ اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن کے ریمارکس جن میں انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ختم کی جا رہی ہے، سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح کے ریمارکس دینے پر آرٹیکل۔6 کی کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ انہیں (مولانا فضل الرحمن) کس نے یہ بتایا؟۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس حوالہ سے مستقبل میں لائحہ عمل وضع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ اس وقت عروج پر تھا جب جان بوجھ کر اس معاملہ سے توجہ ہٹانے کیلئے اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں اجاگر کرنے کی تمام کوشش کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو قیمتوں میں اضافہ کے معاملہ میں کوئی دلچسپی نہیں، ان کی ساری پریشانی کرپشن پر جیل جانے یا نہ جانے اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے حوالہ سے ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے 6 مقدمات کا سامنا کیا لیکن لندن میں پناہ نہیں لی، میں نے باہر سے ڈالرز میں پاکستان لائی گئی اپنی رقم کی منی ٹریل کے سلسلہ میں 60 دستاویزات جمع کرائیں جبکہ انہوں (مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے رہنمائوں) نے ایک بھی کاغذ نہیں دیا۔ اپنی پارٹی کے اندر اور اتحادیوں کے ساتھ اختلافات کے حوالہ سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے سوال کیا کہ کونسی ایسی جماعت ہے جس میں اختلاف رائے نہیں؟۔ دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں اور دنیا کی کسی بھی سیاسی جماعت میں اختلاف رائے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے تحفظات پہلے ہی دور کئے جا چکے ہیں۔