اسلام آباد ۔ 25 فروری (اے پی پی) وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمتیں نہ بڑھانے، یکساں نصاب کے نفاذ، احساس پروگرام میں پارلیمنٹرینز کی شمولیت، آڈٹ اوورسائٹ بورڈ کے دو ممبران اور ایگزم بنک آف پاکستان کے بورڈ ممبران کی تعیناتی کی منظوری دیدی ، موثر و بروقت حکومتی اقدامات کی بدولت اشیاءضروریہ کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، پاکستان کرونا وائرس فری ملک ہے، ملک و قوم کو اس سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، وزیراعظم عمران خان نے احساس پروگرام پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ منگل کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ اجلاس کے آغاز میں وزیرِ اعظم نے کرونا وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الحمدللہ ابھی تک پاکستان کرونا وائرس سے محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ملکوں میں اس وائرس کی موجودگی کی اطلاعات کے پیش نظر ملک میں تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے عالمی سطح پر پاکستان کے ابھرتے ہوئے نئے تشخص اور عالمی رہنماﺅں کی جانب سے اس کا واضح اعتراف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سفارتی سطح پر ہونے والی کامیابیاں باعث فخر ہیں، ان کامیابیوں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کا تشخص اور نئے پاکستان کی شناخت سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے تاجر برادری کے توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے مشیر تجارت اور وزیرِ توانائی سے اس معاملے پر بریفنگ لی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے وعدے کے مطابق جون 2019 تک مقرر کردہ نرخوں پر صنعتوں کو بجلی اور گیس فراہم کی گئی، محدود وسائل کے باوجود بجلی اور گیس کے حوالے سے صنعتوں کو طے شدہ مدت تک ریلیف فراہم کیا گیا ہے ۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی ترجیحات واضح ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح صنعتوں کا فروغ اور کاروباری طبقے کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صنعتی ترقی کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے حوالے سے مشیر تجارت نے کابینہ کو بتایا کہ حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ملکی برآمدات میں اضافہ سامنے آرہا ہے جو کہ نہایت حوصلہ افزاءہے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ بجلی کے بلوں کے حوالے سے وزارت توانائی نے کابینہ کو بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزارتِ توانائی نے بجلی کی قیمتوں کے تعین ، پس منظر، مختلف صارفین کےلئے موجودہ شرح اور صنعتوں اور عوام کے لئے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے قلیل المدت اور وسط مدتی لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 2015سے2018 کے دوران جہاں ایک طرف بجلی کی قیمت اوپر جا رہی تھی اور بجلی کی پیداوارا میں اضافہ کرنے کے لئے کارخانے لگائے جا رہے تھے وہاں اس قیمت کو بلوں میں شامل نہیں کیا گیا اور بجلی کی قیمت کو مصنوعی طور پر روکا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 2018 تک مختلف مد میں تقریباً پانچ سو ارب روپے سے زائد کے بقایا جات اکٹھے ہو چکے تھے۔ ان بقایا جات کے حساب سے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 5.32 روپے اضافہ بنتا تھا۔ سابق حکومت کی جانب سے 127 ارب روپے کی اعلان کردہ سبسڈی کو بھی بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ سابق حکومت کے آخری سال میں سیاسی مفادات اور الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے لوڈ منیجمنٹ کو آدھا کر دیا گیا جس سے شعبے کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ موجودہ دور حکومت میں توانائی کے شعبے میں انتظامی اصلاحات کی گئیں۔ چوری کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کیے گئے۔ بجلی چوری کی مد میں 58387 ایف آئی آر کاٹی گئیں۔ گذشتہ ڈیڑھ سال میں بین الاقوامی سطح پر فیول کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔ اس کے باوجود حکومت نے کمزور اور کم آمدنی والے طبقوں کو اس اضافے سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک سے تین سو یونٹس والے صارفین کو سبسڈی فراہم کی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایسے صارفین پر سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ زرعی شعبے کو 5.35 روپے کے حساب سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ برآمدات سے متعلقہ صنعتوں کو ممکنہ حد تک سبسڈائزڈ ریٹس پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت بجلی کے نرخ فی یونٹ چار روپے سے زیادہ بڑھانے کی ضرورت تھی لیکن حکومت کی جانب سے معاشی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس میں محض 1.27روپے اضافے کی اجازت دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ بجلی کی قیمتوں میں استحکام اور ممکنہ حد تک کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ آئندہ اٹھارہ ماہ کے لئے بجلی کی قیمتوں میں استحکام کے لئے تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سماجی تحفظ کے حوالے سے حکومت کے اہم پروگرام ”احساس“ میں پارلیمنٹ کے اراکین کی مشاورت اور احساس پروگرام کے تحت مختلف ایونٹس میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کابینہ کو بتایا کہ احساس کے پانچ بڑے پروگرام (کفالت، آمدن، بلاسود قرضوں کی فراہمی، احساس انڈر گریجویٹ اسکالرشپ پروگرام اور لنگر خانے) کا اجراءکیا جا چکا ہے جبکہ تین بڑے پروگرام کا جلد آغاز کر دیا جائے گا جن میں تحفظ، نشوونما اور احساس ڈیجیٹل پروگرام شامل ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ احساس پروگرام میں ارکان پارلیمنٹ کو شامل کرنے کے حوالے سے ویب ایپلیکیشن بنائی گئی ہے جس کی بدولت ہر رکن پارلیمنٹ کو احساس کے ہر پروگرام اور خصوصاً جاری پروگراموں اور ایونٹس کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس معلومات کو ہر مہینے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ثانیہ نے بتایا کہ اس ویب ایپلیکیشن کی بدولت اراکین پارلیمنٹ احساس کے مختلف پروگراموں کا حصہ بن سکتے ہیں۔ کابینہ کو مختلف مرحلوں میں احساس پروگرام کے تحت ڈیجیٹل سروے کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے احساس پروگرام کامیابی سے چلانے پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو مبارکباد دی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ احساس پروگرام معاشرے کے سب سے کمزور طبقے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کمزور طبقوں کی معاونت کرنا اللہ کا حکم اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ احساس پروگرام کو مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ مقصد حاصل کیا جا سکے جس کے لئے یہ پروگرام تشکیل دیا گیا ہے۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ کابینہ نے آڈٹ اوورسائٹ بورڈ کے دو ممبران ڈاکٹر طارق حسن اور جہاں آرا سجاد کے استعفے منظور کرنے اور ان کی جگہ عبدالرحمن قریشی اور راحت کونین حسن کو بطور ممبر تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ایگزم بنک آف پاکستان کے بورڈ ممبران کی تعیناتی کی منظوری دی۔ بورڈ سی ای او/صدر ایگزم بنک آف پاکستان، ایڈیشنل فنانس سیکرٹری وزارتِ خزانہ، ایڈیشنل سیکرٹری کامرس ڈویژن، چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ جبکہ آزاد اراکین میں ندیم الٰہی، نوید قاضی اور احمد زبیری شامل ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے ”پاکستان نیشنل ایجوکیشن پلان 2020“ کی بھی منظوری دی۔ اس پلان کا مقصد ملک میں یکساں نصاب کا نفاذ، دینی تعلیم کو مرکزی دھارے میں لانا، سکولوں سے باہر بچوں کو واپس سکولوں میں لانا اور تعلیم بالغان، اسکل فار آل اور اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات شامل ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی فریم ورک 2018میں وضع کیا گیا تھا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز میں ملک میں تین مختلف نظام تعلیم کا رواج پایا جانا، کئی اضلاع کا ملک کے دیگر حصوں سے پیچھے ہونا اور 22ملین بچوں کا سکولوں سے باہرہونا شامل ہے جن میں سے 12ملین بچیاں ہیں،ملک میں شرح خواندگی 62فیصد ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پانچویں گریڈ تک کا نصاب تیار کر لیا گیا ہے جسے نیشنل نصاب کونسل کو منظوری کے لئے بھجوا دیا گیا ہے۔ چھٹی سے آٹھویں جماعت کا نصاب مارچ 2021 تک تیار کر لیا جائے گا۔ پڑھانے کے حوالے سے زبان کے بارے میں نیشنل کانفرنس کا انعقاد مارچ 2020 میں کیا جائے گا جس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ تعلیم کی فراہمی کے لئے مادری زبانوں کو کیسے فروغ دیا جا سکتا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ مارچ 2021 تک ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں پرائمری کی سطح تک ایک ہی نصاب ہوگا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مدرسوں میں نظام تعلیم کے حوالے سے اصلاحات میں بھی خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ اتحاد تنظیم المدارس اس ضمن میں حکومت سے مکمل طور پر تعاون کر رہی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ بہت جلد تمام مدارس میں یکساں نصاب تعلیم رائج ہوگا۔ مدارس کے بچے بورڈ کے تحت امتحانات دیں گے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ورلڈ بنک کے تعاون سے نظام تعلیم میں تفریق کو ختم کرنے کے لئے پروگرام تشکیل دیا جا رہا ہے یہ پروگرام چار سالوں پر محیط ہوگا۔ اس میں بچوں کی لرننگ صلاحتیوں میں تفریق ختم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی پروگرام میں بچوں کو واپس سکولوں میں لانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔تعلیم بالغان کے حوالے سے سمارٹ فونز کو بروئے کار لایا جائے گا۔ کابینہ کو ہنرمند پاکستان پروگرام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔اس پروگرام کے تحت ایک لاکھ ستر ہزار بچوں کو ہنر دیا جائے گا۔کابینہ کو بتایا گیا کہ انڈر گریجویٹ سے پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم کے فروغ کے لئے جامع سکالرشپ پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے۔ ہایئر ایجوکیشن کے ضمن میں یونیورسٹی کے انتظامی معاملات کے حل اور خصوصاً فاصلاتی تعلیم کے حوالے سے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پچاس ہزار طلبا کو سکالرشپ دیا جائے گا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ نے نیشنل سکیورٹی ڈویژن کی ذمہ داریوں کے حوالے سے رولز آف بزنس کی متعلقہ شقوں میں بعض ترامیم کی منظوری دی۔ اجلاس میں بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے اطراف میں کابینہ کی ہدایات کی روشنی میں کثیر المنزلہ تعمیرات کی اونچائی کی حد کا تعین کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے سید محمد مہر علی شاہ کی بطورپاکستان کمشنر برائے انڈس واٹرز مدت ملازمت میں تین ماہ کی توسیع کی منظوری دی۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ مستقل تعیناتی کے لئے عمل کو تیز کیا جائے۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ کابینہ نے دیامیر بھاشا ڈیم کی حفاظت پر مامور واپڈا سیکورٹی فورس کے لئے ممنوعہ بور اسلحہ لائسنسز کے اجراءکی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے سردار محمد اختر مینگل اور ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کے لئے ممنوعہ بور اسلحہ لائسنس کے اجراءکی بھی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سکند خان، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی بطور جج اسپیشل کورٹ (کنٹرول آف نارکاٹیک سبسٹانس) اسلام آباد تعیناتی کی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 19فروری کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ نے صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کے تحفظ کے بل کی منظوری دی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کو معیشت کے حالیہ اعداد وشمار پر بریفنگ دی گئی۔یہ اعداد وشمار ہر ماہ وزیر برائے منصوبہ بندی کی جانب سے کابینہ کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر معیشت میں مثبت رحجان سامنے آیا ہے جس میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں گروتھ کا رجحان سامنے آیا ہے، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور فارن ڈائریکٹ انفلو میں گذشتہ ماہ کی طرح بہتری آئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ افراط زر کے حوالے سے مشکلات ہیں تاہم اس میں بہتری کی توقع ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سیاسی قیدی اپنی رپورٹس دینے سے قاصر ہے بار ہا رپورٹس مانگنے کے لئے خط لکھے گئے اس کے جواب میں میڈیکل سرٹیفکیٹس دیئے گئے ہیں، اب یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں سرٹیفکیٹس اور میڈیکل رپورٹس کا فرق سمجھ نہیں آ رہا یا ان کے پاس میڈیکل رپورٹس سرے سے ہی نہیں ہیں۔ میڈیکل سرٹیفکیٹس تو کسی بھی کلینک سے بن سکتے ہیں لیکن میڈیکل رپورٹس نہیں بن سکتیں، اب تک کی صورتحال میں یہ چیز سامنے آ چکی ہے کہ ان کے پاس میڈیکل رپورٹس بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کون سی پراسرار سرجری ہے جس کے حوالے سے بتایا نہیں جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود حکومت نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانی ہمدردی اور طبی بنیادوں پر نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دی لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی نواز شریف کو کسی ہسپتال میں داخل نہیں کرایا گیا اور نہ ہی عدالتی احکامات کے مطابق نواز شریف کی صحت کے حوالے سے میڈیکل رپورٹس حکومت کو بھجوائی گئیں، اسی وجہ سے حکومت پنجاب نے نواز شریف کی ضمانت میں مزید توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ اس درخواست کے مسترد ہونے کے بعد نواز شریف مفرور ڈکلیئر ہو چکے ہیں، اگر وہ پاکستان واپس نہیں آتے تو قانون کے مطابق انہیں اشتہاری قرار دیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپوزیشن لیڈر کا عہدہ لیا اور اپنے گھر سے دفتر اور گاڑی سمیت تمام مراعات اور تنخواہ لے رہے ہیں، ایسے میں ان کا موجود نہ ہونا ایک غلط روایت ہے اور جو تنخواہ اور مراعات اپوزیشن لیڈر ہونے کے ناطے لے رہے ہیں وہ تو حلال کریں۔ شہباز شریف اپنا عہدہ نبھانے کے لئے پاکستان آئیں اور تمام صورتحال کا بھی سامنا کریں۔