اسلام آباد ۔ 14 فروری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی کامیاب اقتصادی پالیسیوں کی بدولت کرنٹ اکائونٹ خسارہ میں کمی آئی ہے جو ملکی معیشت کے استحکام کو ظاہر کرتا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی اس کا اعتراف کر رہے ہیں، ہمیں قومی شرح نمو میں اضافے کیلئے برآمدات بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی۔جمعہ کو یہاں وزیراعظم ہائوس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی اور گیس کی زیادہ قیمتوں کی وجہ سے پیش آنے والے مسائل کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس آئندہ ہفتے منعقد کیا جائے گا۔وزیراعظم نے ملک کو درپیش معاشی مسائل کی وجوہات پر تفصیل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال کی تاریخ دس سالوں پر محیط ہے جب پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں برسراقتدار تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کا پہلا سال انتہائی مشکل تھا کیونکہ ملک میں محض دو ہفتوں کیلئے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر دستیاب تھے اور اسے ڈیفالٹ کا خطرہ تھا اگر ہم 10 ارب ڈالر قرضے کی قسط ادا نہ کرپاتے تو پابندیوں اور دیگر بڑے مسائل کا خدشہ تھا۔ اسی طرح ڈالر کی قدر 200 روپے تک بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہر چیز کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جانی تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر اس نازک مرحلے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین ہماری مدد نہ کرتے تو پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ تھا۔ سابقہ حکومتوں کی جانب سے بجلی کے نجی شعبہ کی پیداواری کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نئے معاہدوں کے تحت ان کی حکومت پانچ سنٹس فی یونٹ کی شرح سے ونڈ انرجی حاصل کر رہی ہے جبکہ پرانے پروڈیوسرز 24 سنٹس فی یونٹ فراہم کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت گردشی قرضے کو 36 ارب روپے ماہانہ سے کم کرکے 12ارب روپے تک لے آئی ہے۔ اسی طرح آج پاکستان میں بین الاقوامی گیس 15 سال پرانے معاہدے کی نسبت نصف قیمت پر دستیاب ہے۔ برآمدات پر مبنی صنعتوں کیلئے کم قیمت بجلی کی فراہمی بہت ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترقی پذیر اور غریب ممالک میں غربت کی بڑی وجوہات میں سے ایک کرپشن ہے جس پر ترجیحی بنیادوں پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر انہوں نے چینی حکومت کی جانب سے وزارتی سطح کے 450 افراد کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں کارراوئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پاکستان میں اس لعنت کو ختم کرنے کے پختہ عزم کے ساتھ کام نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ وزیراعظم عمران خان نے میڈیا پر پابندیوں کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کی حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے بلکہ انہوں نے خود سابق صدر پرویزمشرف کو نجی شعبہ میں نیوز چینلز کھولنے کی اجازت دینے کا مشورہ دیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرا میڈیا کے ساتھ دیرینہ واسطہ ہے ، میرے پہلے دورہ چین سے قبل دو انگریزی روزناموں نے یہ سرخی لگائی کہ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر نظر ثانی کیلئے بیجنگ جا رہا ہوں، اسی طرح ملازمتوں کے حوالے سے ان کے بیان کو بھی توڑ مروڑ کے پیش کیا گیا۔ اور صرف دو ماہ کے عرصہ میں صف اول کے اخبارات کی جانب سے 21 جعلی خبریں مجھ سے منسوب کی گئیں، اس سے حکومت اور پاکستان کوسبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ہر شعبے میں بہتری کیلئے مخلصانہ کام کیا جس سے پاکستان کیلئے بیرونی دنیا میں عزت بڑھی ہے، یہ سب کی اور بالخصوص میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔