پاکستان اور ترکی کے تعلقات مشترکہ اسلامی ورثہ اور اقدار پر مبنی ہیں جو ریاستوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے رشتے کا آئینہ دار ہیں،معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی ترکی کے ڈپٹی وزیر سیاحت سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 14 فروری (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات مشترکہ اسلامی ورثہ اور اقدار پر مبنی ہیں جو ریاستوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے رشتے کا آئینہ دار ہیں، ترکی نے مسئلہ کشمیر کی جس طرح حمایت کی ہمیں اس پر فخر ہے، پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور ٹی آر ٹی کے درمیان پروٹوکول پر دستخط سے میڈیا، اطلاعات اور ثقافت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ترکی کے ڈپٹی وزیر سیاحت سے جمعہ کو یہاں ملاقات کے دوران کیا۔ معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات مشترکہ اسلامی ورثہ اور اقدار پر مبنی ہیں، یہ تعلق دونوں ریاستوں کے مابین محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان گہرے رشتے کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ترکی نے مسئلہ کشمیر کی حمایت کی ہمیں اس پر فخر ہے، بیگناہ مظلوم کشمیری عوام عالمی برادری اور خاص طور پر امت مسلمہ کی توجہ کے مستحق ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور ٹی آر ٹی کے درمیان پروٹوکول پر دستخط میڈیا، اطلاعات اور ثقافت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید تقویت دے گا، یہ تعاون ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کے تبادلے اور امت مسلمہ کے کاز کے بیانیہ کو اجاگر کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ فلم اور سنیما کے شعبہ میں تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھٹے اعلیٰ سطح کے سٹرٹیجک تعاون کونسل (ایچ ایل ایس سی سی) اجلاس کی میزبانی باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کیلئے ایک اور سنگ میل ثابت ہوگی۔ معاون خصوصی نے کہا کہ سیاحت کے شعبہ میں تعاون پر خوشی ہو ئی ہے، سیاحت کا موضوع وزیراعظم پاکستان کے دل کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے صدر نے سرمایہ کاری اور معیشت کے میدان میں تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیا تمام شعبوں میں تعاون کے فروغ کو اجاگر کرنے کیلئے مؤثر آلہ کار ثابت ہو سکتا ہے، پاکستانی سیاحتی شعبہ کی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے اور اس شعبہ میں باضابطہ تعاون ہمیں ترکی کے تجربات سے استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔ ترک ڈپٹی وزیر سیاحت نے کہا کہ ترکی کے تمام وفود اپنے دوسرے گھر پاکستان آنے پر خوش ہیں، سیاحت کے میدان میں ترکی کے تمام محکمے اور تنظیمیں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کو اجاگر کرنے کے حوالہ سے کافی مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ زیادہ سے زیادہ ترک عوام سیاحوں کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کریں۔