اسلام آباد ۔ 15 فروری (اے پی پی) پاکستان نے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بھارتی سفارتخانہ کے سینئر سفارتکار کو ہفتہ کو دفتر خارجہ طلب کیا اور بھارتی قابض افواج کی جانب سے14 فروری 2020ء کو لائن آف کنٹرول کے نیزہ پیر اور رکھ چکری سیکٹرز میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور اس کے نتیجے میں 13 سالہ عابدہ جمال دختر محمد جمال سکنہ گائوں فتح پور کے شدید زخمی ہونے پر احتجاج کیا۔ واضح رہے کہ بھارتی قابض افواج کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر عام شہری آبادی کو آرٹلری اور بھاری وخودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنارہی ہے جس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوںمیں اضافے کا یہ غیر معمولی سلسلہ 2017ء سے جاری ہے۔ 2017ء میں جنگ بندی کی 1970 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی جبکہ رواں سال اب تک 287 مرتبہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی جا چکی ہیں۔ شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک، انسانی عظمت اور وقار، بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کے برعکس اور ان کی صریحا خلاف ورزی ہے۔ بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں علاقائی امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہیں اور کسی سٹرٹیجک حادثہ کا باعث بن سکتی ہیں۔ پاکستان نے بھارت پر زوردیا کہ 2003ء کے جنگ بندی سمجھوتے کا احترام کرے، تازہ ترین اور اس سے قبل ہونے والی جنگ بندی کی دانستہ خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات کرائے، ”ایل اوسی” اور ”ورکنگ باونڈری” پر امن قائم کرے، بھارتی سفارتکار پر زوردیاگیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تفویض کردہ اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت بھی دے۔