اسلام آباد ۔ 15 فروری (اے پی پی) وزارت خزانہ نے ایکسپریس نیوز کے ٹاک شو میں ڈاکٹر زبیر خان کے بے بنیاد الزامات اور دعووں کو مسترد کر دیا ہے ۔ ہفتہ کو وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 14فروری2020ء کو ایکسپریس نیوز کے ایک ٹاک شو میں ڈاکٹر زبیر خان نے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے گمراہ کن خیالات کا اظہار کیا جبکہ آئی ایم ایف پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بغیر کسی ڈیٹا اور اعدادو شمار کے بے بنیاد اور گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا۔ ڈاکٹر زبیر نے حکومتی کاوشوں کے برعکس اپنے ذاتی خیالات اور سوچ کی بنیاد پر مفروضوںپر مشتمل منفی خیالات کا اظہار کیا۔ وزارت خزانہ ان کے ذاتی خیالات اور تجزیے کو یکسر مسترد کرتی ہے کیونکہ قومی معیشت کے بارے میں ان کی آراء بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ہیں جبکہ ملکی معیشت کی صورتحال میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے ۔ جولائی 2019ء میں اٰئی ایم ایف پروگرام کے بعد حکومت نے معیشت کے استحکام کیلئے اصلاحات پر تیزی سے عمل درآمد کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی بینک ، بلوم برگ ، موڈیز اور فچ سمیت دیگر کئی معروف عالمی مالیاتی و ترقیاتی ادارے پاکستان میں تیزی سے ہونے والے اقتصادی استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں۔ خصوصاً غبر ملکی ادائیگیوں کے نظام میں نمایاں بہتری ہوئی ہے ۔ مالی سال 2018ء میں جاری کھاتوں کا خسارہ 19.9ارب ڈالر تھا جو 2019ء میں 13.8ارب ڈالر تک کم ہوگیا ۔ اسی طرح گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی کے پہلے چھ ماہ میں جاری کھاتوں کے خسارہ میں 75فیصد کمی اور یہ 8.6ارب ڈالر کے مقابلہ میں 2.2ارب ڈالر تک کم گیا ۔ اسی طرح درآمدات میں کمی کا عمل جاری عے ۔ درآمدات میں 21.1فیصد کمی جبکہ برآمدات میں 4.5فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جولائی 2019ء کے بعد سے پاکستان میں روپے کی قدر میں استحکام رہا ہے ۔رواں مالی سال میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 68فیصد اضافہ ہوا ہے اور پہلے چھ ماہ کے دوران 1.34ارب ڈالر سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ گذشتہ مالی سال میں 797ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ اسی طرح پورٹ فولیو سرمایہ کاری 2.2ارب ڈالر تک پہنچ گئی ۔ معیشت میں استحکام کی بنیادی وجہ حکومت کی پالیسی ، اصلاحات اور روپے کی قدر کے حوالے سے مارکیٹ کی بنیاد پر تعین کے فیصلے میں حکومت مالیاتی خسارہ پر سختی سے قابو پا رہی ہے اور اب تک بجٹ سے زیادہ ادائیگیوں پر سختی سے پابندی ہے۔ مالیاتی استحکام کے اقدامات سے بجٹ خسارہ جو مالی سال 2019ء میں 8.9فیصد تھا وہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 2.2فیصد تک کم ہوگیا ۔ اسی طرح مالی سال 2019میں جی ڈی پی کے تناسب سے خسارہ کی شرح 3.5فیصد تھی جو رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کیلئے پہلی مرتبہ جی ڈی پی کے تناسب سے0.6فیصد سرپلس رہا ہے۔ ایف بی آر ٹیکس وصولیوں کے اہداف کے قریب تر ہے ۔ مالی سال 2019ء کی پہلی ششماہی کے مقابلہ میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 16فیصد بڑھی ہیں ۔ دوسری جانب نان ٹیکس آمدن بھی گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 172فیصد تک بڑھ گئیں۔