اپوزیشن تنقید کیساتھ تجاویز بھی دے، تنقید برائے تنقید مسئلے کا حل نہیں، تمام سیاسی جماعتیں حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں، کورونا کو شکست دینے کے لئے قومی ہم آہنگی کی طرف جانے کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں احسن اقدامات، صوبائی حکومتوں کے ساتھ ملکر عوام کی طاقت اور میڈیا کے تعاون سے کورونا وائرس کو مار بھگائیں گے، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی گفتگو

اسلام آباد ۔ 25 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن تنقید کیساتھ تجاویز بھی دے، تنقید برائے تنقید مسئلے کا حل نہیں، تمام سیاسی جماعتیں حکومت کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں، کورونا کو شکست دینے کے لئے قومی ہم آہنگی کی طرف جانے کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں احسن اقدامات، صوبائی حکومتوں کے ساتھ ملکر عوام کی طاقت اور میڈیا کے تعاون سے کورونا وائرس کو مار بھگائیں گے، سابق وزیراعلی اور موجود اپوزیشن لیڈر کا خطاب حسین خواہشات پر مبنی ہے، حکومت کے کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، شریف فیملی کے افراد اور وسائل پاکستان لائے جائیں تا کہ ان کی مدد سے اس عالمی وبا پر قابو پانے کے لئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں۔ وہ بدھ کو یہاں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد بریفنگ کے دوران گفتگو کر رہی تھیں ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کا خطاب حسین خواہشات پر مبنی روڈ میپ تھا جو میڈیا کے ذریعے قوم کے سامنے پیش کر کے حکومت کو ہدایت دی گئی کہ یہ اقدامات فی الفور کیے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا، یہ ہی صاحب بطور وزیر اعلی پنجاب 10 سال کے عرصے میں صحت کے ڈھانچے کو بہتر کرنے میں اہم سنگ میل بن سکتے تھے لیکن ان دس سالوں میں صحت کا ڈھانچہ بوسیدہ سے بوسیدہ تر ہوگیا، اس صورتحال نے خود شہباز شریف کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر اور سابقہ وزیراعلی نے خواہشات کا طویل بیانیہ میڈیا میں بیان کیا، وزیراعظم اس سے پہلے مسلسل ایک ہفتے سے معاشی پیکیج پر کام کر رہے تھے جسے عوام کی ضروریات سے جوڑتے ہوئے نچلی سطح پر اثرات کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن لیڈر کا کردار بنتا ہے وہ اپنی ذات سے شروع کرتے، انہی کی وجہ سے اس ملک میں جو وسائل کی کمی ہے اور معاشی محاذ پر حکومت کو مشکلات درپیش ہیں ان سے نبردآزما ہونے کے لئے کوئی عملی قدم اٹھاتے، صرف سبق نہ پڑھاتے بلکہ اپنے بیرون ممالک وسائل کو پاکستان میں لاکر ترسیلات زر بڑھاتے تا کہ وہ قوم پر خرچ ہوسکتا، یہ بہترین موقع تھاکہ شریف خاندان کے تمام بھگوڑے پاکستان آتے اور اپنا سرمایہ بھی پاکستان لاکر درپیش چیلنج کو کم کرکے اپنا حصہ ڈالتے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت سیاست اور سیاسی توپوں سے برسنے والے گولوں کی رفتار کم کرکے عوام کو یکجا ہو کو حفاظتی تدابیر کی طرف مائل کرنے کی ضرورت ہے، حکومت اپوزیشن کی ذات سے جڑے درد میں الجھنا نہیںچاہتی، اس وقت قومی اتحاد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے حوالے سے پارلیمنٹ سے عوام کے لئے ایک متفقہ لائحہ عمل سامنے آنا تھا لیکن بلاول اور شہباز شریف اس پارلیمانی مکالمے میں شریک ہی نہیں ہوئے وہ دونوں ابھی اپنی خود نمائی میں لگے ہوئے ہیں، وقت کا تقاضا اور حالات کی نزاکت ہے عوام کو اس مشکل سے نجات دلانے کے لئے اتفاق رائے سے قومی حکمت عملی طے کر کے صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن بے وقت کی راگنی الاپنے کی بجائے وزیراعظم کے ساتھ ہراول دستہ بن کر اس چیلنج سے نمٹنے میں مدد کرتی، مشاورتی عمل میں اپوزیشن کی تمام تجاویزکا حکومت خیر مقدم کرے گی، اپوزیشن تنقید ضرور کرے لیکن تجاویز بھی دے، تنقید برائے تنقید مسئلے کا حل نہیںہے۔