وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی کا اجلاس 100 ارب روپے مالیت کے مختلف منصوبوں کی منظوری ، اجلاس میں نوتیزئی اورنولانگ ڈیم منصوبوں،گرین لائن بی آرٹی ایس کی آپریشنلائزیشن اورمربوط انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم آلات کے اپ ڈیٹڈ پی سی ون، نیشنل الیکٹرانک کمپلیکس کی تعمیراور مندرہ چکوال سڑک کودورویہ کرنے اوراس میں بہتری لانے کے منصوبوں کی بھی منظوری

اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے تقریباً 100 ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کے مختلف منصوبوں کی منظوری دیدی ہے، اجلاس میں نوتیزئی اورنولانگ ڈیم منصوبوں،گرین لائن بی آرٹی ایس کی آپریشنلائزیشن اورمربوط انٹیلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم آلات کے اپ ڈیٹڈ پی سی ون، نیشنل الیکٹرانک کمپلیکس کی تعمیراور مندرہ چکوال سڑک کودورویہ کرنے اوراس میں بہتری لانے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس جعمرات کویہاں کابینہ ڈویژن میں وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں منعقدہوا۔اجلاس میں 4 ارب 90 کروڑ56 لاکھ 67 ہزارروپے کی نظرثانی شدہ لاگت سے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں توئے ور/ باتوزئی ڈیم منصوبہ کی منظوری دیدی گئی ، بلوچستان کا محکمہ آبپاشی اس منصوبہ کومکمل کرے گا، اس منصوبہ سے بلوچستان میں 16750 ایکڑ اراضی کوزیرکاشت لایا جائیگا، ڈیم میں 95 ہزارایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی جبکہ یہ سیلاب سے بچائو میں بھی مدد فراہم کرے گا۔ ایکنک نے بلوچستان حکومت کو مقررہ مدت اورلاگت میں منصوبہ کومکمل کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں نولانگ ڈیم پراجیکٹ کے دوسرے نظرثانی شدہ پی سی ون کی بھی منظوری دی گئی جس پر28 ارب 46 کروڑ 5 لاکھ روپے کی لاگت آئیگی جس کے بعد اس منصوبہ کی مالی تعاون کیلئے اقتصادی امورڈویژن کو ایشیائی ترقیاتی بنک سے مذاکرات شروع کرنے میں حائل روکاوٹ دورہوگئی ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیراقتصادی امورحماد اظہرکی قیادت میں ایک کمیٹی کے قیام کی ہدایت کی گئی، کمیٹی کے دیگرارکان میں وزیرمنصوبہ بندی، ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن، اوروزارت پانی وبجلی وبلوچستان حکومت کے نمائندے شامل ہوں گے۔کمیٹی اس منصوبہ کے دوسرے نظرثانی شدہ پی سی ون کی تیاری سے متعلق ایشوزکا جائزہ لے گی۔کمیٹی دوہفتے کی مدت میں اپنی تجاویزدے گی۔اجلاس میں 10 ارب 95 کروڑ 61 لاکھ روپے زائد مالیت کے گرین لائن بی آرٹی ایس کی آپریشنلائزیشن اورمربوط انٹلی جنٹ ٹرانسپورٹ سسٹم آلات کے اپ ڈیٹڈ پی سی ون کی منظوری بھی دی گئی جس میں 5 ارب 31 کروڑ66 لاکھ80 ہزارروپے بیرونی معاونت شامل ہے،اجلاس میں اسلام آباد کے سیکٹرایچ نائن ون میں نیشنل الیکٹرانک کمپلیکس کی تعمیر کی منظوری دی گئی،اس منصوبہ کی نظرثانی شدہ لاگت16 ارب 81 لاکھ61 ہزارروپے سے زائد ہے، مجموعی لاگت میں سے 13.37 ارب روپے چین کی حکومت نے قرضہ اورگرانٹ کی شکل میں دئیے ہیں۔اس منصوبہ سے تحقیق،آفات سے نمٹنے کیلئے پیشگی وارننگ کے نظام،قومی اثاثوں کی الیکٹرانک پیمائش،زمین اورزیرسمندرقدرتی وسائل کی الیکٹرانک تلاش، مائیکروچپس پرڈیزائننگ اورمربوط سرکٹ کے نظام، کمیونیکیشن، آٹومیشن اورطبی نظام میں ٹیکنالوجی میں خودکفالت میں مددملے گی۔یہ منصوبہ جون 2022 تک مکمل ہونے کاامکان ہے۔اجلاس میں ملک کے بارانی علاقوں میں کمانڈایریا میں اضافہ کے قومی پروگرام کی منظوری بھی دی گئی، اس منصوبہ پر25 ارب 34 کروڑ، 56 لاکھ72 ہزارروپے کی لاگت آئیگی۔منصوبہ کے تحت 2664 زرعی تالاب بنائے جائیں گے جس میں مختلف زرائع سے بارش کے پانی کو ذخیرہ کیاجائیگا، تالابوں کے قریب شمسی توانائی سے چلنے والے پمپ نصب کئے جائیں گے جس کے بعدآبپاشی کاایک مربوط نظام قائم کرنے میں مددملے گی۔اسی طرح منصوبہ کے تحت 4156 ڈگ ویل بھی بنائے جائیں گے جبکہ 2432 کھالوں کی تعمیر بھی اس منصوبہ کا حصہ ہے۔اجلاس میں مندرہ چکوال سڑک کودورویہ کرنے اوراس میں بہتری لانے کے منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی۔ اس منصوبہ پر11 ارب 89 لاکھ26 ہزارروپے کی لاگت آئیگی۔ یہ منصوبہ سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے مکمل کیا جائیگا۔