کراچی۔ 25 مارچ (اے پی پی)پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مندی کا تسلسل نہ روک سکا اور کاروباری ہفتے کے دوسرے روز منگل کوبھی مارکیٹ کریش ہوگئی اور انتظامیہ کو ایک بار پھرمارکیٹ سنبھلنے کے لئے ٹریڈنگ دو گھنٹے کے لئے معطل کرنی پڑی لیکن ٹریڈنگ بحال ہونے کے بعد بھی مندی کا رجحان برقرار رہا جس کے نتیجے میں کے ایس ای100 انڈیکس28ہزار کی نفسیاتی حدسے بھی ہاتھ دھو بیٹھااور انڈیکس 1336.03 پوائنٹس کی کمی سے 27228.80پوائنٹس کی سطح پر آگیا جس کے باعث سرمایہ کاروں کو2کھرب4ارب1کروڑ9لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑاجس کے سبب مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت بھی55کھرب84ارب18کروڑ23لاکھ روپے سے کم ہو کر 53کھرب 80ارب 17کروڑ14لاکھ روپے ہوگئی۔ نمایاں کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے میپل لیف، کے الیکٹرک، بینک آف پنجاب ،یونٹی فوڈز،فوجی سیمنٹ،ہیسکول پٹرول،حب پاور کمپنی،ڈی جی خان سیمنٹ ،پاک الیکٹران اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کے شیئرز سرفہرست رہے ۔اسٹاک ماہرین کے مطابق کروناوائرس کے معیشت پر بڑھنے منفی اثرات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمائے کے انخلاء کا سلسلہ جاری ہے جس کے تحت منگل کو بھی ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی حصص فروخت کا رجحان دیکھنے میں آیا۔بدھ کو کے ایس ای30انڈیکس 5فی صد گر نے پر انتظامیہ نے ایک بار پھر رسک مینجمنٹ قوانین کے تحت12.20 منٹ پر ٹریڈنگ روک دی لیکن دو گھنٹے کے وقفے کے بعد ٹریڈنگ بحال ہوئی تو مندی کا رجحان پھر بھی برقرار رہا اور ٹریڈنگ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس1336.03پوائنٹس کی کمی سے 27228.80پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔ اسی طرح کے ایس ای30انڈیکس1336.03پوائنٹس کی کمی سے11833.83پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس763.38پوائنٹس کی کمی سے 20131.87پوائنٹس پر بند ہوا ۔ گزشتہ روز298کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے79کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میںاضافہ205کمپنیوںمیںکمی اور 14 کمپنیوں کے حصص میں استحکام رہا . کاروباری حجم14کروڑ51لاکھ 6ہزار شیئرز رہا جو پیر کے مقابلے میں4کروڑ63لاکھ 18ہزارشیئرز زائدہے ۔گزشتہ روزقیمتوں میں اتارچڑھاؤ کے حساب سے مری بریوری کے حصص کی قیمت 34.49روپے کے اضافے سے602.66روپے اورشیزان انٹر کے حصص کی قیمت15.25روپے اضافے سے 289.25روپے ہوگئی۔جب کہ نمایاں کمی کے لحاظ سے پاک ٹوبیکوکے حصص قیمت 137.90روپے کمی سے1701روپے اوررفحان میظ کے حصص کی قیمت100روپے کمی سے6500روپے ہوگئی ۔