اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) پاکستان اور اٹلی نے کورونا وبا کے عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے، مشاورتی سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جمعرات کو اپنے اطالوی ہم منصب لیوگی ڈی مائیو کے ساتھ ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کے مابین کورونا عالمی وباء کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس وبا کے نتیجے میں ہونے والی اموات پر اپنے اطالوی ہم منصب کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس مشکل اور دکھ کی گھڑی میں اطالوی حکومت اور عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے اس کرونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے اٹلی کے طبی عملے کی خدمات، ہمت اور حوصلے کی داد دی۔ وزیر خارجہ نے اطالوی ہم منصب کو اس عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اس کٹھن اور کڑے وقت میں،اٹلی میں مقیم پاکستانیوں کا خصوصی خیال رکھنے پر، اطالوی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے، اپنے اطالوی ہم منصب کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مسلسل کرفیو کے باعث وہاں ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے 80 لاکھ کشمیری، بھارتی استبداد سے نجات کیلئے عالمی برادری کی توجہ کے منتظر ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس عالمی وبائی چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے، کم وسائل کے حامل، ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لیے ہم نے تجویز دی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بروئے کار لا سکیں۔ ہمیں توقع ہے کہ اٹلی، یورپی یونین، جی 7 اور جی 20 کا اہم رکن ہونے کے ناطے ہماری اس تجویز کو آگے بڑھانے میں اپنا موثر کردار ادا کریگا۔ دونوں وزرائے خارجہ کا اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے، مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔