اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وباء سے مؤثر انداز سے نمٹنے کیلئے علاقائی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ وزیر خارجہ نے جمعرات کو بھوٹان کے اپنے ہم منصب ڈاکٹر ٹانڈی ڈورجی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کورونا وباء کے معاملہ پر جامع مشاورت کیلئے سارک وزراء صحت ویڈیو کانفرنس منعقد کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کورونا وائرس کے عالمی چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے معاشی مشکلات کے باعث ترقی پذیر ملکوں کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کی تجویز دی ہے۔ دونوں وزراء خارجہ کے مابین کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام اور اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کے حوالہ سے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ ء خیال ہوا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس عالمی چیلنج سے نمٹنے کیلئے بھوٹان کی طرف سے بروقت اٹھائے گئے اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے نے بھوٹان کے وزیر خارجہ کو اس عالمی وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی تعاون کے فروغ کیلئے سارک کو انتہائی اہم پلیٹ فارم سمجھتا ہے، کورونا وائرس کی عالمی وباء سے مؤثر انداز میں نمٹنے کیلئے ہمیں مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہو گی، سارک ممبر ممالک کے مابین اس موضوع پر جامع مشاورت کیلئے پاکستان ”سارک وزراء صحت ویڈیو کانفرنس کے انعقاد کا خواہاں ہے۔ بھوٹان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے مجوزہ سارک وزراء صحت ویڈیو کانفرنس کے انعقاد کو احسن اقدام قرار دیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس عالمی وبائی چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لئے ہم نے تجویز دی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری سٹرکچر کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔ ورلڈ بینک کے صدر اور آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے بھی اس حوالہ سے بات کی ہے جبکہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے بھی آؤٹ آف باکس سلوشن پر زور دیا ہے۔ بھوٹان کے وزیر خارجہ نے پاکستان کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کی کاوش کو بھرپور سراہا۔دونوں وزراء خارجہ نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ عالمی وبائی چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے ”سارک کوویڈ 19 ایمرجنسی فنڈ” کا قیام سیکرٹری جنرل سارک کی سربراہی میں عمل میں لایا جائے اور اس فنڈ کے قواعد و ضوابط سے متعلقہ امور مشاورت سے جلد طے کئے جائیں۔ دونوں وزراء خارجہ نے اس عالمی چیلنج سے نبرد آزما ہونے اور باہمی تعاون کے فروغ کیلئے مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔