اسلام آباد ۔ 26 مارچ (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) نے کورونا وائرس کے عدم پھیلائو اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے تمام صوبوں کی رضامندی کے بعد ملک بھرمیں تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے، اولین ترجیح کے طور پر ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کو حفاظتی سامان کی فوری فراہمی، سٹیٹ بینک اور نادرا کو سندھ حکومت کو درکار تعاون فراہم کرنے ، ریلیف پیکیج میں صوبائی حکومتوں کے تعاون کیلئے مربوط نظام بنانے، کورونا وائرس سے متعلق نیشنل کمانڈ سینٹرمیں صوبوں اور وفاق کے نمائندوں کی موجودگی یقینی بنانے اور نماز جمعہ کے اجتماعات محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، (آج) جمعہ کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں بلوچستان اور کے پی کے حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹ کی بندش پر درپیش چینلجنز، ادویات، کھانے پینے کی اشیاء سمیت کاروبار کھلے رکھنے کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا، اس وقت ملک میں کورونا وائرس متاثرہ مریضوں کی تعداد 1102 ہے، 24 گھنٹوں میں 102 مریضوں کا اضافہ ہوا ہے، مجموعی طور پر اب تک کورونا وائرس سے 8 اموات ہوئی ہیں، پاکستان بھر میں آئی سی یوز میں 19670 بیڈز، قرنطینہ سینٹرز میں بیڈز کی تعداد ایک لاکھ 62 ہزار، مختلف تھری، فور اور فائیوسٹارز ہوٹلوں کو بھی بک کر لیا گیا ہے، پاکستان بھر میں آئی سی یوز میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور عملے کی تعداد 30 ہزار ہے، قومی رابطہ کمیٹی نے آٹے کی قلت کا نوٹس لیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسی صورتحال میں ذخیرہ اندوزی کرنے والے اللہ تعالی، ملک اور قوم کے مجرم ہیں، ملک میں آٹے کی قلت نہیں ہے، اس وقت بھی ملک میں گندم کے 17 لاکھ ٹن ذخائر ہیں اور نئی گندم بھی آنے والی ہے، کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنا بہترین حکمت عملی ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ ہر شہری کا رویہ، رہن سہن کا طریقہ اور فیصلوں کا پوری قوم پر اثر پڑتا ہے۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر، وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹینٹ جنرل محمد افضل اور معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ویڈیو لنک کے ذریعے میڈیا کو بریفنگ دی ۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات اسد عمر نے بتایا کہ حکومت کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کیلئے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، وائرس سے نمٹنے کیلئے قومی حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں، ہیلتھ سے متعلق تمام عملہ ہراول دستے کا کردار ادا کر رہا ہے، ملک میں آ ٹے کی کوئی قلت نہیں ہے،اور اس وقت ملک میں 17 لاکھ ٹن آٹا موجود ہے، کچھ علاقوں میں آٹے کی زائد قیمت کی اطلاعات ہیں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ وباء کا پھیلاؤ روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے گئے ہیں، وائرس کا پھیلاؤ روکنا ایک قومی فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ ورکرز قوم کے مجاہد ہیں، وہ ہراول دستے کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کل یا پرسوں دو بڑے اقدامات کا اعلان کرنے جا رہے ہیں، سندھ حکومت نے وفاق سے جو مدد مانگی ہے وہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل اینڈ کمانڈ سنٹر میں صوبوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں کو بھی بٹھایا جائے گا، صوبوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنی ریلیز بڑھا دیں۔ انہوں نے کہا کہ رضاکاروں اور مالی امداد سے متعلق ایک دو دن میں وزیراعظم اعلان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلم ممالک نے نماز جمعہ اور دیگر اجتماعات سے متعلق فیصلے کئے ہیں۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے ہیلتھ ورکرز کو مجاہد اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو ملک و قوم کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاوَ کو روکنے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور ان اقدامات کا مسلسل جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ 13مارچ کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں فیصلے کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آئندہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی صدارت خود کریں گے۔ میڈیا بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ بلاشبہ عالمی بحران کے پاکستان پر بھی اثرات آ رہے ہیں لیکن ہم ایک مربوط حکمت عملی پرکام کر رہے ہیں تاکہ کورونا کے اثرات کم سے کم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کے 182 ممالک میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں پہلے سکریننگ اور پھر ٹیسٹنگ کا عمل شروع کیا گیا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے دعویٰ کیا کہ اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کئے جا رہے ہیں تاکہ فیصلے غلط نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومتی پالیسیوں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی پیکیج کا اعلان کیا ہے اور ہم نے صوبوں کے ساتھ مل کر اس پر عمل درآمد کرانا ہے۔ اسد عمر نے ہیلتھ کیئر کے عملے، ڈاکٹرز اور نرسزکو کورونا کے خلاف جنگ میں ہراول دستہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آٹے کی کوئی قلت نہیں ہے اور 17 لاکھ ٹن آٹا اس وقت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو ٹرانسپورٹیشن کے کیا مسائل ہیں اس پر کل صبح غور ہو گا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نور الحق قادری نے کہا کہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی نے مساجد اور نماز جمعہ کے اجتماعات کے حوالہ سے اہم فیصلے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا بین الاقوامی وباء ہے اور یہ خوفناک اور ہولناک کیفیت ہے، اس صورتحال سے نبرد آزما ہونا صرف حکومت کا کام نہیں ہے، ہر طبقہ زندگی کا بھی اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام کا بڑا اہم کردار ہے کیونکہ وہ عوام میں شعور اجاگر کر سکتے ہیں، وہ قوم کو بتائیں کہ لوگ گھروں میں محدود رہیں۔ انہوں نے کہا کہ 13 مارچ کو نیشنل کوآرڈینیشن کونسل کے اجلاس میں بات ہوئی تھی کہ مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات کو کس طرح محدود کیا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے اس وقت کہا کہ ہم اس حوالہ سے یہاں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے بلکہ انہوں نے میرے ذمہ یہ کام لگایا کہ علماء کرام سے رابطہ کروں، میں نے دو ہفتوں سے تمام طبقہ ہائے فکر کے علماء کے ساتھ مشاورت کی اور انہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال سے آگاہ کیا، علماء کرام کا مجموعی رویہ انتہائی مثبت رہا۔ انہوں نے مدارس میں چھٹیاں کر دیں، تنظیمات المدارس کے امتحانات ملتوی کر دیئے گئے، (آج) جمعرات کو ایوان صدر میں ساڑھے تین گھنٹے تک علماء کرام سے مشاورت ہوئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف کا شکر گزار ہوں کہ وہ ذاتی طور پر علماء کرام سے رابطہ میں ہیں۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے علماء ایوان صدر میں موجود تھے جبکہ چاروں گورنر ہائوسز اور گلگت بلتستان سے علماء کرام وڈیو لنک کے ذریعے رابطہ میں تھے۔ علماء کرام نے صدر مملکت کو اختیار دیا ہے کہ حکومت اس صورتحال میں جو بھی پالیسی بنائے گی وہ تعاون کریں گے۔ نور الحق قادری نے کہا کہ مساجد کو بند نہیں کریں گے کیونکہ اذان کی صدائیں وہیں سے آتی ہیں تاہم پنجگانہ باجماعت نمازوں اور نماز جمعہ کے اجتماعات کو انتہائی محدود رکھا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کریں، اس حوالہ سے جامعہ الازہر، حرمین الشریفین، امارات فتویٰ کونسل اور نجف اشرف سے فتوے آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی، مصر، سعودی عرب، قطر، بحرین، الجزیرہ، مراکش میں مساجد کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسجد الحرام اور مسجد نبویۖ بھی بند کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دین ہمیں یہ بتاتا ہے کہ مسجد سے زیادہ ساجد اور نماز سے زیادہ نمازی کی اہمیت ہے۔ حج کے حوالہ سے مختلف اطلاعات کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے حکم پر میں سعودی وزارت حج کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہوں۔ انہوں نے کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر ہمیں حاجیوں کی رہائشی عمارتوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر خدمات کے معاہدوں سے روک دیا ہے اور ہمیں کہا ہے کہ حج کے حوالہ سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل ہمیں اعتماد میں لیں گے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کیلئے ہراول دستہ ڈاکٹر اور پیرامیڈیکس ہیں، وزیراعظم عمران خان نے ان کا تحفظ اور سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔ چیئرمین این ڈی ایم لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ کورونا کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہم نے بھرپور تیاری کر لی ہے، فور سٹار ہوٹلوں کے کمروں کو بک کرکے رکھا ہوا ہے جن کی تعداد 42 ہزار کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ فائیو سٹار کو بھی بک کرکے رکھا ہوا ہے، ضرورت پڑنے پر ان کو بھی استعمال میں لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک لاکھ 94 ہزار صحت کے شعبہ سے وابستہ عملہ موجود ہے جن میں 30 ہزار عملہ آئی سی یو میں کام کرنے والا ہے اور ہم نے ان کیلئے کٹس تیار کرکے رکھی ہوئی ہیں جن میں تمام احتیاطی سامان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں چین کی ایک کمپنی کی طرف سے 5 لاکھ ماسک موصول ہو چکے ہیں اور کل 50 ہزار ٹیسٹنگ کٹس مزید آ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے جن علاقوں میں کیسز زیادہ ہے ان کو کیمیکل سے صاف کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہم صفائی ستھرائی پر بھی بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور (آج) جمعہ سے صفائی کا کام بہارہ کہو سے شروع کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں 450 وینٹی لیٹرز خراب تھے جن میں سے 389 ٹھیک کر لئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں ایک لاکھ 94 ہزار افراد پر مشتمل میڈیکل عملہ ہے، 10 اور 15 اپریل کے درمیان امپورٹڈ وینٹی لیٹرز کی تعداد ایک ہزارتک ہو جائے گی، خراب وینٹی لیٹرز کی تعداد اب صرف 61 رہ گئی ہے جبکہ دیگر ٹھیک کر لئے گئے ہیں، 30 ہزار لوگوں کو5 اپریل تک کٹس پہنچ جائیں گی،آئی سی یوز میں بیڈ کی تعداد 19 ہزار سے زائد ہو چکی ہے، آئی سی یوز میں کام کرنے والے طبی عملے کی تعداد 30 ہزارکے قریب ہے، آئی سی یوز میں بیڈ کی تعداد 19 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوست ممالک کی طرف سے ملنے والے سامان کو ہمارے ملک کی سیاسی شخصیات وصول کریں گی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ صحت کے حوالے سے ہم نے اپنی ٹیم میں ڈاکٹر فیصل سلطان جو کہ انفیکشیس ڈیزیز کے ماہر ہیں، کو کورونا سے متعلق فوکل پوائنٹ بنایا گیا ہے اور ہم سب مل کر ان کی مہارت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بہتر طریقے سے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تربیت کے حوالے سے بھی ہم ایک تربیتی پروگرام کا جلد آغاز کرنے لگے ہیں جس کے بعد وہ اپنی اور مریضوں کی بہتر طریقے سے نگہداشت کر سکیں۔ ایک ما ہ میں پہلا ہدف پانچ ہزار طبی عملہ کو تربیت فراہم کرنا ہے۔ اس وقت یہ وبا پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ دنیا بھر میں اب تک تقریباً پونے پانچ لاکھ مریض رپورٹ ہوئے ہیں، ان میں ایک لاکھ 15 ہزار مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کورونا وائرس ڈیش بورڈ تشکیل دیا ہے جس پر آپ کو مستند اعداد و شمار مل سکتے ہیں، پاکستان میں اس وقت تک ایک ہزار 128 کورونا وائرس سے متاثر مریض ہیں، آزاد کشمیر میں ایک، گلگت بلتستان میں 84، اسلام آباد میں 25، کے پی کے میں 121، پنجاب میں 223، بلوچستان میں 131، سندھ میں 417 کیسز ہیں، صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 21 ہے، پاکستان میں اس وقت 575 مریض ہسپتالوں میں ہیں اور ان کی حالت بہتر ہے، پانچ مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور 8 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ پاکستان میں زائرین جو آئے تھے ان کو مختلف صوبوں میں جو قرنطینہ میں رکھے گئے، ان کی تعداد 6 ہزار 589 ہے، ان میں سے تقریباً 2 ہزار 500 مریضوں میں کورونا وائرس مرض پایا گیا ہے، اس سلسلہ میں ایک قومی ہیلپ لائن بھی شروع کی ہے 1166 اس پر گزشتہ 24 گھنٹوں میں 73 ہزار کالز موصول ہوئی ہیں، اس کی استعداد کو بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ہی اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ حکومت تو انے طور پر اقدامات کر رہی ہے لیکن ہم سب کو مل کر اس بیماری سے بچائو کے لئے کام کرنا پڑے گا۔