کورونا وائرس سے کساد بازاری، بڑا اقتصادی بحران پیدا ہوسکتا ہے،رواں سال عالمی اقتصادی شرح نمو منفی رہے گی،آئی ایم ایف

استنبول ۔ 10 اپریل (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )نے کہا ہے کہ کورونا وائرس لاک ڈاﺅن کے باعث پیداواری و کاروباری سرگرمیاں بند ہونے سے کساد بازاری کے نتیجے میں بڑا اقتصادی بحران پیدا ہوسکتا ہے،رواں سال (2020 ئ) عالمی اقتصادی شرح نمو منفی میں رہے گی۔یہ بات آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینا جارجیوا نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہی۔انھوں نے کہا کہ کورونا کی وباءسے دنیا بھر میں سماجی و اقتصادی سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں، اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد متاثر اور ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے جبکہ عالمی معیشت کو کساد بازاری کا سامنا ہے، اس صورتحال کا آئندہ ہفتے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے بہار میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا جس میں 189 رکن ملکوں کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے سربراہان اور دیگر سرکاری و نجی افسران شرکت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ صرف تین ماہ قبل تک عالمی اقتصادی شرح نمو کے اشاریے مثبت تھے جو کورونا وائرس کے باعث اب منفی میں تبدیل ہوچکے ہیں، اکتوبر 2019 ءمیں جاری رپورٹ میں رواں سال اقتصادی شرح نمو 2.6 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی جو اب منفی 2.8 میں بدل چکی ہے۔انھوں نے کہا کہ دنیا کا ہرملک کورونا وائرس سے متاثر ہوا لیکن ابھرتی معیشتوں اور غریب ممالک کو اس سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ممالک کورونا وائرس سے متاثرہ معیشتوں کی بہتری کے لیے 8 ٹریلین ڈالر کے قریب پیکج دیے جاچکے ہیں،اگر رواں سال کی دوسری ششماہی کے دوران وباءکا مسئلہ حل کرلیا جاتا ہے تو رواں اور آئندہ سال عالمی اقتصادی شرح نمو میں بہتری آئے گی۔سربراہ آئی ایم ایف نے کہا کہ دسمبر 2019 ءمیں چینی علاقے ووہان سے شروع ہونے والا کورونا وائرس دنیا کے 184 سے زیادہ ملکوں اور خطوں میں پھیل چکا ہے جس سے اب تک16 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ 96 ہزار ہلاک ہوچکے ہیں تاہم 3 لاکھ 55 ہزار سے زیادہ افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔