امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا کمپنیوں کو حاصل قانونی تحفظ میں تخفیف کے حکمنامے پر دستخط کردیئے، امریکہ میں سوشل میڈیا کے نگراں ادارے آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف صارفین کا مواد بلاک کرنے یا اس میں ترمیم کرنے پر قانونی کارروائی کرسکیں گے

واشنگٹن/لندن ۔ 29 مئی (اے پی پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو امریکہ میں حاصل قانونی تحفظ کو کم کرنے کیلئے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کردیئے ہیں، ایگزیکٹیو آرڈر کی منظوری کے بعد امریکہ میں سوشل میڈیا کے نگراں ادارے فیس بک اور ٹوئٹر سمیت آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف صارفین کا مواد بلاک کرنے یا اس میں ترمیم کرنے پر قانونی کارروائی کرسکیں گے۔ جمعہ کو امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ نے آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الزام عائد کیا کہ انہیں لامحدود اختیارت حاصل ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس آرڈر کو جلد قانونی پلیٹ فارمز پر چیلنج کردیا جائے گا۔ ایگزیکٹیو آرڈر کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس ‘سلیکٹیو سینسر شپ’ میں ملوث ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے بدھ کو پوسٹل بیلٹ سے متعلق صدر ٹرمپ کی دو ٹویٹس پر فیکٹ چیک کا لیبل چسپاں کیا تھا۔ ٹوئٹر کے اس اقدام کو صدر ٹرمپ نے آزادی اظہار رائے کا گلہ گھوٹنے کا مرتکب قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ٹوئٹر امریکہ کے 2020ء میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ایگزیکٹیو آرڈر سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں متنبہ کیا تھا کہ آج بڑا ایکشن ہونے والا ہے۔ اس آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الزام عائد کیا کہ انھیں لامحدود اختیارت حاصل ہیں۔ ایگزیکٹیو آرڈر میں ‘کمیونیکیشن ڈیسینسی ایکٹ’ کی دوبارہ وضاحت کی گئی ہے۔ اس ایکٹ کے تحت فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب سمیت دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کو مخصوص صورتحال میں حاصل قانونی تحفظ کی تشریح کی گئی ہے۔ اس قانون کے مطابق سوشل نیٹ ورکس کو صارفین کی جانب سے پوسٹ کئے جانے والے مواد پر موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا تاہم آن لائن پلیٹ فارمز فحش، متشدد اور ہراسانی پر مبنی مواد کو بلاک کرسکتے ہیں۔ اب ایگزیکٹیو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ اس شق کے تحت حاصل استثنا اس وقت نافذ العمل نہیں ہو سکتا جب سوشل نیٹ ورکس صارفین کی جانب سے پوسٹ کردہ مواد میں بذات خود ترمیم کرتے ہیں۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ ‘دھوکہ دہی’ کے انداز میں مواد کو بلاک کرنا اور ویٹ سائٹ کے قواعد و ضوابط میں درج وجوہات کے علاوہ کسی بھی اور وجہ سے مواد کو ویب سائٹ سے ہٹانے کو قانونی استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ مسودے کے مطابق فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن اس بات کی وضاحت کرے گا کہ کس طرح کے مواد کو دھوکہ دہی سے ہٹانا خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں (سوشل میڈیا کمپنیاں) کی شرائط و ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس آرڈر کے تحت سوشل میڈیا سائٹس کو دیئے جانے والے حکومتی اشتہارات پر نظرثانی کی جائے گی جبکہ وائٹ ہاؤس میں ایک ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو صارفین کی سوشل میڈیا سے متعلق شکایات وصول کرے گا۔ اس ایگزیکٹیو آرڈر میں ٹوئٹر کا نام بارہا استعمال کیا گیا ہے۔ دریں اثناء فیس بک کے چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ ایک ایسی حکومت نے جو سینسرشپ کے حوالے سے فکر مند رہتی ہے اس کے لیے ایسا کرنا کوئی مناسب اقدام نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ میں اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہوں کہ لوگ جو کچھ بھی آن لائن کہتے ہیں فیس بک کو ان کی کہی ہوئی بات کی سچائی پر ثالث کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نجی کمپنیاں، خاص کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اس پوزیشن میں بالکل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ سچائی کا فیصلہ کریں۔