پاکستان کا عالمی ادارہ کی سلامتی کونسل سے جموں و کشمیر میں جنگی جرائم پر بھارت سے جواب طلبی کرنے کا مطالبہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم کا مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ’ بارے سلامتی کونسل کے ورچوئل اجلاس سے خطاب

نیویارک۔ ۔ 28 مئی (اے پی پی) پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بین الاقوامی انسانی قانون اور جنگی جرائم کی سنگین خلاف ورزیوں پرمداخلت کرتے ہوئے بھارت سے جواب طلبی کرے اور دہائیوں پرانے تنازعہ کو حل کرنے کے لئے اقدامات کرے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے مسلح تنازعاتمیں شہریوں کے تحفظ کے سلسلے میں ورچوئل اجلاس منعقد کرنے والی 15 رکنی سلامتی کونسل کومتنبہ کیاکہ غیر ملکی جارحیت اور قبضے کے معاملات میں سلامتی کونسل کی طرف سے کارروائی نہ کئے جانے کی بھاری چکانا پڑے گی ۔ پاکستانی مندوب نے کونسل پر زور دیا کہ وہ کشمیر اور فلسطین سمیت دیرینہ تنازعات کی اصل وجوہات پر توجہ دے اور ان کاسیاسی حل تلاش کرے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے پرکنٹرول مضبوط کرنے کیلئے کورونا وائرس کے بحران کا پْر زور انداز میں استحصال کیا ہے ، جو پہلے ہی نو ماہ سے جاری ڈیجیٹل و جسمانی لاک ڈاؤن سے وابستہ ہے تاکہ وادی کو ” ڈبل لاک ڈاؤن “کے تحت کشمیریوں کو شدید متاثر کیاجاسکے جبکہ ان کی وبائی بیماری سے نمٹنے کے طریقوں سے دوائیوں ، طبی مدد اور معلومات تک رسائی بھی نہ ہو ۔ انہوں نے کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لئے جاری کوششوںکے سلسلہ میں ایک اعلی سطحی اجلاس کو بتایاکہ اس وقت جبکہ پوری دنیاکی توجہ کووڈ۔19 وائرس سے نمٹنے پرمرکوز ہے بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آبادکاری کو تبدیل کرنے کے لئے مزید اقدامات اٹھائے ہیں ، نئے ‘ڈومیسائل’ قواعد و ضوابط کو نافذ کرنے سے جو مقبوضہ کشمیرمیں پورے بھارت سے آباد کاری کریں گے جو کہ سلامتی کونسل کی خود اپنی قرار دادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ۔ سفیر اکرم نے کہا کہ کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے لئے جائز مزاحمت کو دبانے کے لئے بھارتی سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر “پیلٹ گن” کا بے دریغ استعمال ، من مانی گرفتاریوں ، اضافی عدالتی ہلاکتوں اور عام شہریوں کے خلاف گولہ بارود کا استعمال کیا۔انہوں نے بتایا کہ صرف اپریل میں ، 33 کشمیری ہلاک ، 152 زخمی اور 945 کو دانستہ طور پر گرفتارکیا گیا۔ ایک اور غیر انسانی عمل میں ، بھارتی سکیورٹی فورسز نے ہلاک ہونے والے کشمیریوں کی لاشوں کو ان کے اہل خانہ کو واپس کرنے سے انکار کردیا۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ بھارت نے قوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے فائر بندی کے عالمی مطالبہ کی نفی کرتے ہوئے ، یکم جنوری سے 989 خلاف ورزیاں کرتے ہوئے متنازعہ کشمیر کے علاقے اور “ورکنگ باؤنڈری” میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو تیز کردیا اور شہریوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ لائن آف کنٹرول کے پاکستان کی جانب 6 افراد ہلاک اور 82 شہری زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کی کارروائیوں سے بچنے کے لئے ، بار بار اپنی توپیں کشمیری گائوں میں رکھی ہیںجوکہ چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 28 کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔سفیر اکرم نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور انسانیت سوز قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے سدباب میں عدم مساوات پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر و بیشتر عوام میں کافی تشویش پائی جاتی ہے ،تاہم اس پر عمل کرنے کا سیاسی عزم ناکافی ہے لہذا اس تناظر میں سلامتی کونسل کا خود اپنا ریکارڈ زیادہ بہتر نہیں ہے، ان حالات میں پیچیدہ بحرانوں کے ایسے تمام حالات میں عام شہریوں کے تحفظ کے تصور کو تقویت دینا ضروری ہے۔سفیر اکرم نے کہا کہ پاکستا ن کو دنیا کے سب سے بڑے فوجی تعاون کرنے والے ممالک کی حیثیت سے ، فخرہے جو بڑی ایمانداری سے” میزبان حکومتوں کے ساتھ مل کر اور سلامتی کونسل کے کہنے پرشہریوں کی حفاظت کا کام انجام دیتا ہے۔