کانگو میں قتل اور عصمت دری کے واقعات میں اضافے سے ممکنہ انسانی اور جنگی جرائم کا خدشہ ہے، اقوام متحدہ

کنشاسا۔ 28مئی (اے پی پی) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ وسطی افریقی ملک کانگو کے شمال مشرقی علاقے میں منظم قتل ، سر قلم ، عصمت دری اور دیگر وحشیانہ کارروائیوں میں اضافے سے ممکنہ انسانی اور جنگی جرائم کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے جوائنٹ ہیومن رائٹس آفس(یو این جے ایچ آر او) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران نسلی گروپ لینڈو سے منسلک سی او ڈی ای سی او کے باغی 296 افراد قتل، 151 زخمی اور 38 خواتین اور بچوں سے زیادتی جیسے واقعات میں ملوث ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کانگو کے سونے، ہیرے، تیل اور کولٹن جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال شمال مشرقی صوبہ ایتوری میں حالیہ حملوں میں نہ صرف ہیما، الیور اور دیگر برادریوں بلکہ شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ رواں سال مارچ سے خاص طور پر کان کنی کے مقامات پر پرتشدد کی کارروائیاں شدت اختیار کر گئیں۔ یو این جے آر ایچ او نے بتایا کہ مسلسل پرتشدد کارروائیوں سے ان کمیونٹیز کے ممبران اپنے دفاع کی کوشش کریں گے جس سے خطے میں بین الاجتماعی تشدد کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبہ ایتوری میں اب تک 1.2 ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ اس بات کا زیادہ خطرہ ہے کہ زیادہ بنیاد پرست رہنما فوج اور عام شہریوں کے خلاف اور بھی زیادہ حملے کرکے اس علاقے کو تشدد کے ایک اور سنگین حالات میں دھکیل دیںگے۔