جرمن مذبحہ خانوں سے میٹ انڈسٹری کے کارکنوں کو وائرس منتقل ہونے پر پلانٹس کی سیکورٹی سخت

لندن ۔ 27 جون (اے پی پی) جرمنی کی میٹ پروسسنگ انڈسٹری ان دنوں سخت سیکورٹی کے حصار میں ہے جس کی وجہ شمالی رہینے کے ٹونیز گروپ کے مذبحہ خانوں سے اس کے 1500 سو سے زائد کارکنوں کو کورونا وائرس منتقل ہونا ہے۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ٹونی گروپ کے میٹ پکنگ پوائنٹس پر منگل کو 1553 کارکنوں کے کورونا وائرس ٹیسٹ کے رزلٹ مثبت آئے، اس سے قبل اتوار کو بھی 1331 کارکنوں کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔انھوںنے بتایا کہ یہ پلانٹ ملک کے مغربی شہر گترسلوح میں واقع ہے جسے اب جون کے آخر تک لاک ڈاﺅن کردیا جائے گا۔جرمنی میں ان میٹ پلانٹس کے ذریعے کورونا وائرس دوبارہ پھیلنے کی شرح میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے اس ضلعے میں ڈے کیئر سینٹرز، سکول اور صحت عامہ سے متعلق ادارے رابرٹ کوچ انسٹیوٹ کو بند کرنا پڑا، انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس دوبارہ پھیلنے کی وجہ یہی گوشت پلانٹس ہیں۔شمالی ر ہینے کے وزیراعظم آرمن لاشٹ نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ گوترسلوح میں ریستوران، بارز اور جم ایک ہفتے کے لیے بند رہیں گے، اس کے علاوہ علاقے میں دو سے زیادہ افراد کے اجتماع پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی ہے۔کمپنی کے مینیجنگ شراکت دار کلیمنز ٹونیز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ گوترسلوح میں بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹ کے لیے کمپنی فنڈنگ کرے گی تاکہ مقامی آبادی کی مالی معاونت کی جاسکے۔انھوں نے وبا کے پھیلاﺅ کہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے لوگوں سے معافی طلب کی۔مذکورہ میٹ پلانٹ ٹونیز گروپ کے کئی میٹ پلانٹس میں سے ایک ہے جسے اس وقت سخت سیکورٹی صورتحال کا سامنا ہے،یہاں کام کرنے والے غریب غیر ملکی کارکنوں کے لیے کام اور رہائش کی صورتحال غیر مناسب ہے۔یاد رہے کہ جرمنی نے بڑے موثر انداز میں کورونا وائرس کا مقابلہ کیا تاہم گزشتہ مہینوں کے دوران اس کے مذبحہ خانوں سے متعدد بار اس وبا کے پھیلاﺅ کی شکایات ملتی رہی ہیں۔