مشیر تجارت عبدالرزاق دائود کا پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو کے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

فیصل آباد 30 جون (اے پی پی): وزیر اعظم کے مشیر برائے کامرس و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وباء کے تنا ظر میں پاکستان جیسے ملکوں کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے جبکہ حکومت پاکستان میں کاروبار کرنے کیلئے مزید آسانیاں پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے اور اس سلسلہ میں ریگولیٹری فریم ورک کو جدید بنیادوں پر استوار کیا جا رہا ہے۔ وہ منگل کے روز پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو (پی آر ایم آئی ) کے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی سٹیئرنگ کمیٹی بارے ایک زوم کانفرنس کو چیئر کرنے کے دوران خطاب کر رہے تھے جس میں فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے علاوہ کراچی اور لاہور چیمبر ز کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ عبدالرزاق دائود نے کہا کہ ملک کے اہم چیمبرز کو اپنے ممبران کو درپیش مسائل کے بارے میں جامع تجاویز پیش کرنی چاہئیں تاکہ اُن کے حل کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جا سکیں۔اس موقع پر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں نے بتایا کہ پاکستان میں نیا کاروبار کرنے والوں کو طویل اور مشکل مراحل سے گزرنا پڑتاہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ملحقہ اداروں کی رجسٹریشن کے عمل کیلئے بہت ہی پیچیدہ نظام ہے اس طرح نئی سرمایہ کاری کرنے والوں کو 19مختلف وفاقی اور28صوبائی محکموں سے الگ الگ رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے سرمایہ کاروں کیلئے ون ونڈو آپریشن شروع کیا جائے جہاں سے وہ صرف ایک ہفتہ کے اندر اندر تمام وفاقی اور صوبائی محکموں سے این او سی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کورونا کے تناظر میں موجودہ لیبر قوانین میں بھی فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی پیداوار کو بھی بڑھایا جا سکے۔ صدر فیصل آباد چیمبر نے کہا کہ ٹیکس کیلئے ایک صفحے کا فارم جاری کیا جائے اس طرح کئی ایک ٹیکسوں کی تعداد کو کم کر کے اُن کی ہر ماہ ادائیگی کی بجائے سال میں صرف چار مرتبہ وصولی کی جائے ۔ انہوں نے ان معاملات کے بارے میں قانون سازی پر بھی زور دیا تاکہ اس سلسلہ میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نظام کا پہلے صوبائی سطح پر تجربہ کیا جائے اور اس کے نتائج کی بنیاد پر اُس کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیلایا جائے۔