مغربی کنارے کے الحاق کا اسرائیلی منصوبہ غیرقانونی ہے،اقوام متحدہ

جنیوا۔ 29 جون (اے پی پی) اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیل کے ساتھ الحاق کا اسرائیلی منصوبہ واضح طور پر غیرقانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل بیچلیٹ نے پیر کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے مقبوضہ مغربی کنارے اور وادی اردن کو اسرائیل سے ملحق کرنے کے منصوبے کی مخالف کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ اپنے اس منصوبے کو ختم کر دیں اور اپنے سابق سینئر عہدیداروں اور جنرلز کو سنیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الحاق غیر قانونی ہے چاہے وہ مقبوضہ مغربی کنارے کا 30 فیصد حصہ ہو یا 5فیصد ہو۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطینی علاقوں کو الحاق کرنے کے تباہ کن فیصلے کو تبدیل کرے کیونکہ اس الحاق کے خطرناک نتائج آئندہ کئی دہائیوں تک درپیش رہیں گے اور یہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہو گا۔ مشیل بیچلیٹ نے خبردار کیا کہ مقبوضہ فلسطین کے کسی بھی حصے کو الحاق کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے میں پائیدار امن کے حصول کی کوششوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کا اقدام فلسطینیوں کی آزادی کے حق پر پابندیوں میں اضافے کا سبب بنے گا کیونکہ ان کے آبادی کے علاقے محصور ہو جائیں گے اور یہی نہیں کئی فلسطینی اپنی زمینوں سے محروم ہو سکتے ہیں بلکہ لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات خصوصاً صحت اور تعلیم تک رسائی میں مشکلات درپیش ہوں گی جبکہ لوگوں کے ایک دوسرے سے رابطے بھی منقطع ہو سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مغربی کنارے کو یکم جولائی سے اسرائیل میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مغربی کنارے کے کچھ حصے کے انضمام کے بعد وادی اردن کے بیشتر علاقوں اور اس خطے میں تعمیر 235 غیر قانونی اسرائیلی بستیوں پر اسرائیل کو خود مختاری حاصل ہوجائے گی۔ یہ مغربی کنارے کے تقریبا 30 فیصد علاقے پر مشتمل ہوگا۔