وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمرانی کے دوران بھارت صحافیوں کے لئے دنیا کے سب سے خطرناک ترین مقامات میںسے ایک ہے ، امریکی مصنف

نیو یارک۔ 2 جون (اے پی پی) وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمرانی کے دوران بھارت صحافیوں کے لئے دنیا کے سب سے خطرناک ترین مقامات میںسے ایک ہے کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمرانی کے 6 سال کے دوران انفرادی صحافیوں پر کم از کم 200 سنگین حملے ہوچکے ہیں ، جس کے نتیجے میں ان میں سے 40 کی ہلاکت ہوئی ہے ، واشنگٹن پوسٹ کے ایک مضمون میںشائع شدہ ایک حالیہ مطالعہ کے مطابق ، جس میں ہندوستان کو “صحافت پر عمل کرنے کے لئے دنیا کے سب سے خطرناک ترین مقامات” میں پیش کیا گیا ہے۔ پوسٹ کے عالمی نظریات بارے مصنف ، جیسن رضایان نے متنبہ کیا ہے کہ بھارت صحافت کے لئے اور بھی خطرناک ہوتا جارہا ہے”۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبائی بیماری نے مودی کو صحافیوں اور ان کے کاموںمیں دخل اندازی کرنے کا ایک نیا بہانہ فراہم کیا ہے۔جب کہ بھارتی وزیر اعظم نے خود مختار کوریج پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے قانون سازی کر نے کا خاطر خواہ انتظام نہیں کیااس وباءکا آغاز ہوتے ہی ، ایک ایرانی نڑاد امریکی صحافی اور مصنف ، رضایان نے لکھا ہے کہ اس سے قطع نظر بھارت میںصحافت کی صورتحال اور ماحول مسلسل خراب ہوتاجارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے ذرائع ابلاغ کے اداروں کو مالی نقصان ہورہا ہے کیونکہ بھارت میں صحافیوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں رپورٹرز کو کہانی تک جانے سے روکتی ہیں۔ انہوں نے لکھاکہ جو بھی صحافی مودی حکومت کے سرکاری معاملات پر سوال کرنے کی جر آت کرتے ہیں انہیں دھمکیوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا کی بڑی پیروی کے باعث نمایاں اور تنقیدی آوازوں کے خلاف آن لائن حملوں کو بین الاقوامی سطح پر توجہ ملی ہے ، یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کے دور دراز کے کونے میں کام کرنے والے دوسرے صحافی ، جنہیں معمول کے مطابق دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔رضایان نے کہا کہ صحافت کی بین الاقوامی پریس آزادی سے متعلق کمیٹی کا ایوارڈ حاصل کرنے والی بھارتی خاتون صحافی، ڈکشٹ بھی اب اپنے وطن میں پریس کے بگڑتے ہوئے معاملات اور صحافیوں سے بدسلوکی پر خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔پوسٹ کے مطابق ، چونکہ حکومت نے مارچ کے آخر میں بھارت بھرکے اندر تجارت اور نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردی تھیںجس کے بعد سے اب تک کم سے کم 10 نامہ نگاروں کو اس وبائی امراض کی کوریج سے متعلق مجرمانہ جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس بڑھتے ہوئے قانونی دباو¿ کی وجہ سے اب متعدد صحافی حساس معاملات پر رپورٹنگ سے گریز کر رہے ہیں۔”2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ، مودی اور ان کی حکومت نے آزادانہ پریس کو برقرار رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ظاہر کی۔