وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کا قومی اسمبلی میں گزشتہ مالی سالوں کی ضمنی گرانٹس پر بحث سمٹتے ہوئے اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 30 جون (اے پی پی)وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور کے مقابلے میں ہماری ضمنی گرانٹس 50 فیصد کم ہیں۔90 فیصد گرانٹس کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ہیں، ایف بی آر میں خامیاں دور کرنے کے لئے اصلاحات کی ضرورت ہے، پٹرول پر ڈویلپمنٹ لیوی آج بھی30 روپے ہے، این ایف سی کے پیسے روکنے کا ہمارے پاس کوئی اختیارنہیں ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں گزشتہ مالی سالوں کے ضمنی گرانٹس پر بحث سمٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے اپنے دور کے آخری سال میں 600 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس جاری کی گئیں۔ مسلم لیگ (ن) نے 415 ارب بجٹ سے ریگولر گرانٹ کی مد میں دیا۔ گزشتہ سال 222 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹس جاری کی گئیں۔ حکومت کی کوشش تھی کہ سپلیمنٹری گرانٹس کو آہستہ آہستہ کم کریں۔ کورونا وائرس کی وبا سے قبل کی معیشت کی کارکردگی بتا رہا تھا۔ اس وبا کی وجہ سے 300 ارب کی گرانٹس دی گئی ۔ 32 ارب کی گرانٹس پٹرولیم سیکٹر کو دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کرنسی کے فرق کی وجہ سے یہ گرانٹس دی گئیں۔ وزیراعظم آفس کی گرانٹس این ڈی ایم اے کو دی گئیں۔ پٹرولیم کا ایک کیس ماضی کے ادوار کا نکلا تھا۔ ٹیکنکل گرانٹس کے تحت ان کو ایک ڈیڑھ ارب کی رقم دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنیکل تقاریر کی آڑ میں سیاسی تقریر کرنا اچھی روایت ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کو بڑھایا گیا ۔ ہمارے پاس این ایف سی کے پیسوں کو روکنے کا اختیار نہیں ہے۔ صوبوں کو زور دیں کہ ضلع کو بھی رقم کا اجراءکردیں۔ حماد اظہر نے کہا کہ سید نوید قمر نے کہا کہ اب بہتری آئی ہے‘ ان کا شکریہ کہ ان کو پتہ ہے سب سے زیادہ فنڈ کورونا وائرس کی وبا کے لئے رکھا گیا۔ وبا سے قبل کوئی ضمنی گرانٹ نہیں تھی۔ پی ایس او اور دیگر کو اس لئے دیئے گئے کیونکہ کرنسی کی قیمت کم زیادہ ہو تو دینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین قسم کی سپلیمنٹری گرانٹس ہوتی ہیں۔ ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ اور ریگولر سپلیمنٹری گرانٹ جس میں بجٹ سے ہٹ کر پیسے دیئے جاتے ہیں۔ حماد اظہر نے کہا کہ ایف بی آر کو انڈسٹریل شعبے میں بہتری کیلئے پیسے دیئے گئے۔ وزارت صنعت وپیداوار کو 35ارب روپے یوٹیلٹی سٹورز کو رمضان پیکج کی مد میں دیئے گئے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے جو اقدامات کئے گئے ان مثبت ثمرات ملے ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا کیلئے جو رقم بچے گی وہ سٹیٹ بینک کے اکاﺅنٹ میں رکھی گئی ہے۔ این ایف سی کے پیسے روکنے کا ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے جو پیسہ اکٹھا کیا جاتا ہے اس کی نسبت ایف بی آر پر کم پیسہ خرچ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور کے آخری سال میں 30 روپے ڈیویلپمنٹ لیوی لگائی گئی تھی ۔ پیٹرول پر آج بھی پی ڈی ایل 30 روپے ہے۔ کورونا وائرس کی وبا کے علاوہ رواں سال کوئی ریگولر سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں بہتری کی ضرورت ہے۔ سی پیک کے لئے ساڑھے سات ارب نہیں ساڑھے سات کروڑ رکھے گئے ہیں۔ ہم نے کورونا وائرس کی وبا اور کرنسی کے ایشو کے علاوہ کوئی ضمنی گرانٹس نہیں دی۔ پٹرول کی قیمتوں کو عالمی منڈی کی وجہ سے بڑھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی گرانٹس کی آڑ میں سیاسی تقاریر کا جواب دے کر ایوان کا وقت ضائع نہیں کروں گا۔