ٹیلی گراف، ڈیلی میل اور دی سن میں شائع خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، آکسفورڈ یونیورسٹی کی ریسرچ نے برطانوی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب کر دیا ہے، برطانیہ میں کورونا کیسز فروری کے آغاز اور پاکستان میں فروری کے اختتام پر رپورٹ ہوئے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سیّد ذوالفقار بخاری کا برطانوی اخبارات میں کورونا وائرس کے پھیلائو سے متعلق پاکستان سے منسوب جھوٹی خبر پر ردِعمل

اسلام آباد ۔ 30 جون (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سیّد ذوالفقار بخاری نے برطانوی اخباروں میں کورونا وائرس کے پھیلائو سے متعلق پاکستان سے منسوب جھوٹی خبروں پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزارت سمندر پار پاکستانیز کے مطابق زلفی بخاری نے ٹیلی گراف، ڈیلی میل اور دی سن میں شائع خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دی ہیں ۔ زلفی بخاری نے کہا کہ کورونا کیسز سے متعلق پاکستان سے منسوب شرمناک اور گھٹیا رپورٹنگ کی گئی۔ برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ میں آدھے سے زائد کورونا کیسز پاکستان سے آئے جس کی وجہ سے برطانیہ میں مقیم 15 لاکھ برٹش پاکستانیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں۔ برطانوی اخبارات کے الزامات کے جواب میں زلفی بخاری نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی تازہ تحقیق کے اعداد و شمار ٹویٹ کئے ہیں۔ زلفی بخاری نے کہا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ریسرچ نے برطانوی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب کر دیا ہے، برطانیہ میں کورونا کیسز 1300 مختلف مقامات سے پہنچے، برطانیہ میں زیادہ تر کیسز سپین، فرانس اور اٹلی سے پہنچے جس وقت برطانیہ میں کورونا کیسز بڑھے اس وقت پاکستان کی فضائی حدود بند تھی، برطانیہ میں کورونا کیسز فروری کے آغاز اور پاکستان میں فروری کے اختتام پر رپورٹ ہوئے ۔ زلفی بخاری نے کہا کہ جب برطانیہ میں کورونا کا آغاز ہوا اس وقت پاکستان میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔ ایک بھی کیس رپورٹ ہونے سے قبل پاکستان کورونا کیسے ایکسپورٹ کر سکتا تھا؟ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں 80 فیصد کیسز 28 فروری سے 29 مارچ کے درمیان رپورٹ ہوئے، مارچ میں پاکستان اپنی فضائی حدود بند کر چکا تھا، ٹریول بین کے دوران کسی کو بیرون ملک آنے جانے کی اجازت ہی نہیں تھی۔