پاکستان تیسری مرتبہ دو سال کے لئے سارک چیمبر کی سربراہی سنبھالے گا عہدہ صدارت حوالہ کرنے اور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی اور جنرل اسمبلی کے مشترکہ سیشنز کی تقریب ویڈیو لنک کے ذریعے 30 جون اور یکم جولائی کو ہوگی، پاکستان کے افتخار علی ملک عہدہ سنبھالیں گے

اسلام آباد/لاہور ۔ 25 جون (اے پی پی)پاکستان تیسری مرتبہ دو سال کے لئے سارک چیمبر کی سربراہی آئندہ ہفتے سنبھالے گا، گیارہ سال کے وقفہ کے بعد پاکستان تیسری مرتبہ سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سربراہی سنبھال رہا ہے اور آئندہ ہفتے سے پاکستان کے معروف کاروباری رہنما افتخار علی ملک سارک چیمبر کے آئندہ صدر کا عہدہ سنبھالیں گے۔ افتخار علی ملک کو متفقہ طور پر چیمبر کا صدر نامزد اور منتخب کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سارک چیمبر کا ورچوئل اجلاس حال ہی میں منعقد ہوا ہے جس میں سارک چیمبر کے سبکدوش ہونے والے صدر رووان ایڈرے سنگھے کے علاوہ نائب صدر افغانستان خیر الدین میال احمد، نائب صدر بنگلہ دیشی محبوب العالم جن کو سینئر نائب صدر نامزد کیا گیا ہے نے شرکت کی۔ مزید برآں اجلاس میں سابق صدر داشواگن ٹیسی چپ دورجی ، نائب صدر بھارت ونود جونیجا، نائب صدر نیپا چندی راج ڈھاکل اور سری لنکا سے نائب صدر ڈاکٹر ایم روہیتا سلوا نے بھی شرکت کی ہے۔ اجلاس میں باہمی اتفاق رائے سے یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عہدہ صدارت حوالہ کرنے اور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی اور جنرل اسمبلی کے مشترکہ سیشنز کی تقریب ویڈیو لنک کے ذریعے آن لائن منعقد کی جائے گی۔ یہ تقریبات 30 جون اور یکم جولائی کو منعقد ہوں گی۔ واضح رہے کہ افتخار علی ملک پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت ہیں جو سارک چیمبر کے آغاز سے اس کے ساتھ منسلک ہیں اور گزشتہ 25 سال سے علاقائی تعاون اور باہمی رابطوں کے فروغ کے لئے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ افتخار علی ملک 1990ء میں ایوان صنعت و تجارت لاہور اور 2000ء میں وفاق ایوانہائے صعنت و تجارت پاکستان کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ افتخار علی ملک اس وقت سارک چیمبر کے سینئر نائب صدر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے تھے وہ تیسرے پاکستانی ہیں جو سارک چیمبر آف کامرس کے صدر بنیں گے۔ مزید برآں وہ سارک چیمبر کے مسلسل پانچ بار نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ افتخار علی ملک گارڈ انڈسٹریزگروپ کے چیئرمین بھی ہیں ان کا شمار ملک کے معروف اور نامور مخیر حضرات میں بھی ہوتا ہے جو دور جدید ترین ممتاز بختاور ٹرسٹ ہسپتال چلا رہے ہیں جہاں پر عوام کو معیاری اور مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ دونوں ہسپتالوں نے متاثرین زلزلہ اور سیلاب سے متاثرہ افراد کے علاج معالجہ میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں ہیں جبکہ ممتاز بختاور ٹرسٹ نے کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے حوالے سے بھی عطیات دیئے ہیں۔ پاکستان میں تجارت کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کی خدمات کے صلہ میں ان کا نام معروف بین الاقوامی کتاب ” کون کیا ہے” میں بھی شامل کیا گیا جو ان کی خدمات کا بین الاقوامی اعتراف ہے۔