کسادبازاری کی صورتحال اندازوں سے بڑھ کر ہونے کا امکان ہے ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ

اسلام آباد ۔ 28 جون (اے پی پی) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ رواں سال کسادبازاری کی صورتحال اندازوں سے بڑھ کر ہونے کا امکان ہے جبکہ آنیوالے سال میں معیشتوں کی بحالی کا عمل سست روی کا شکاررہے گا۔ یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی چیف اکانومسٹ گیتاگوپی ناتھ نے اتوار کو اپنے ایک انٹرویو میں کہی ہے، انہوں نے کہاکہ رواں سال دنیاءکے مختلف حصوں میں لاک ڈاون کاعرصہ اور شدت ہمارے اندازوں سے بڑھ کرطوالت اختیارکرگیاہے ، اسی طرح کورونا وائرس کی وباءکا ابھی تک طبی حل نہیں نکالا جاسکا ہے جس کی وجہ سے اس سال کے آنیوالے مہینوں میں سماجی دور کو اختیارکرنے کا سلسلہ جاری رہے گا، اس کے علاوہ ابھی تک اس وائرس کی ویکسین سامنے نہیں آئی ہے، ممالک ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت اور وائرس کی موجودگی کی نشاندہی کے اشاریوں میں بھی پیچھے ہیں، اس صورتحال میں معیشیتوں کی بحالی غیریقینی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ صورتحال ان غریب اورپسماندہ ممالک کیلئے بالخصوص پریشانی کا باعث ہے جنہوں نے بیرونی قرضے حاصل کئے ہیں اوران کی ادائیگی کرنا ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ان ممالک کیلئے قرضوں میں رعایت، قرضوں کی ری سٹرکچرنگ ، رعایتی قرضوں اورامداد کی فراہمی کے ذریعہ ممبر ممالک کی مدد کررہاہے۔ گیتاگوپی ناتھ نے کہاکہ گروپ 20 غریب اورترقی پذیرممالک کیلئے قرضوں میں رعایت کے ضمن میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ کام کرررہاہے۔ ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ کوروناوائرس کی معاشی اثرات کو کم کرنے کیلئے بیشترممالک نے امدادی پیکجز دئیے ہیں جو خوش آئند ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ممالک کو ان شعبوں میں روزگارکی فراہمی کیلئے کام کرنا چاہئیے جہاں ابھرتی ہوئی صورتحال میں بڑھوتری کی گنجائش ہے، ممالک کو گرین اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی استعداد سے فائدہ اٹھانا چاہئیے۔