اسٹیٹ بینک نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر تیسری سہ ماہی رپورٹ جاری کردی

کراچی۔30جولائی(اے پی پی) بینک دولت پاکستان نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر اپنی تیسری سہ ماہی رپورٹ مالی سال 20 جاری کردی۔ جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق معاشی استحکام کے لیے کیے گئے کامیاب اقدامات نے، جون سے جولائی 2019 تا فروری مالی سال 2020 میں معاشی بہتری کو فروغ ملا ، کورونا وائرس کے پھیلا ﺅکے بعد مارچ 2020 کے اواخر اور اس کے بعد آنے والی کساد بازاری کے خلاف کافی تحفظ فراہم کیا۔ خاص طور پر جولائی تا فروری مالی سال 2020 کی مدت کے دوران مالیاتی اور جاری کھاتے کے خساروں پر قابو پانے میں خاصی پیش رفت ہوئی جس کا سبب محاصل کی مضبوط نمو، مارکیٹ کا تعین کردہ ایکسچینج ریٹ اپنانے کی پالیسی اور زر ِمبادلہ کے بفرز میں اضافہ تھا۔ ضروری استحکام کی اس مدت کے بعد برآمدات سمیت حقیقی معیشت میں بحالی کی حوصلہ افزا علامات پائی گئیں۔ اس کے باعث معیشت کسی بیرونی دھچکے سے نمٹنے کے لیے اس سے بہتر طور پر لیس ہوگئی جتنی بصورت دیگر ہوتی۔ پاکستان کی مبادیات میں کووڈ 19 سے قبل کے عرصے میں آنے والی اِس مضبوطی اور وبا کے پھیلاﺅ کے بعد دور اندیشی پر مبنی پالیسی اقدام کی بناءپر پاکستان اس قابل ہوگیا ہے کہ وبا کا زور کم ہونے کے بعد بحالی کے اس راستے پر پھر گامزن ہوسکے گا جس پر چل رہا تھا۔عالمی معیشت پر کورونا وائرس کے حملے کے بعد دنیا کے دیگر علاقوں کی طرح یہاں بھی حقیقی، مالیاتی اور بیرونی شعبے نمایاں طور پر دبا میں آگئے جبکہ کمزور ملکی طلب اور تیل کی پست قیمتوں کے باعث مہنگائی کا منظر نامہ بہتر ہوگیا۔ کووڈ 19 کے دھچکے کی شدت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عبوری تخمینوں کے مطابق 68 سال میں پہلی بار پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی نمو مالی سال 20 میں سکڑ جائے گی۔ تاہم 0.4 فیصد کا سکڑا اتنا شدید نہیں جتنا کووڈ 19 کے باعث دنیا کے بیشتر دیگر علاقوں میں متوقع ہے۔رپورٹ میں یہ بات زور دے کر کہی گئی ہے کہ جی ڈی پی میں تخمین شدہ سکڑا کی بڑی وجہ صنعتوں اور خدمات کے شعبے کی سرگرمیوں میں کمی ہے۔ بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) میں جنوری تا فروری مالی سال 2020 کے دوران بہتری درج کی گئی جس کا بنیادی سبب برآمدی شعبے ہیں جبکہ بہتری میں کچھ حصہ غذائی اشیا اور کھاد کے شعبوں کا تھا۔ تاہم یہ ابتدائی بحالی کووڈ 19 کی بنا پر آنے والے تعطل سے متاثر ہوئی اور ایل ایس ایم کی نمو مارچ میں ماہ بماہ بنیاد پر22 فیصد گر گئی۔ زراعت کا شعبہ کووڈ 19 سے متاثر نہیں ہوا اور اہم فصلیں پچھلے سال کی نسبت بہت اچھی ہوئیں۔ بہرکیف، ناسازگار موسمی حالات اور کیڑوں اور ٹڈی دل کے حملوں کے باعث کچھ سالانہ اہداف پورے نہ ہوسکے۔ کووڈ 19 کا اثر خدمات کے شعبے پر شدت سے ہوا جیسا کہ ہائی فریکوئنسی ڈیٹا سے عیاں ہے ،چنانچہ مالی سال 20 میں اس شعبے میں منفی نمو کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق مالیاتی شعبے میں بھی اسی طرح کا رجحان ہے ، جہاں جولائی تا مارچ مالی سال 2019/20 کے دوران ابتدائی بجٹ میں مجموعی لحاظ سے فاضل رقم درج کی گئی جو کہ 2016 کے بعد سے پہلا موقع ہے۔ تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے تیسری سہ ماہی کے دوران یہ فاضل رقم خسارے میں بدل گئی۔ ایک طرف ، لاک ڈان نے محاصل کو بری طرح متاثر کیا اور مارچ 2020 میں ایف بی آر کے تمام زمروں کی محاصل کی نمو منفی ہوگئی ۔دوسری طرف معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور بے روزگاری میں اضافے کی وجہ سے زیادہ اخراجات کی ضرورت پیدا ہوگئی۔ حکومت نے مالی سال 2019/20 کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر 1.24 ٹریلین روپے کے تحرکاتی پیکیج کا اعلان کیا جس میں براہ ِراست امداد اور زراعت ، تعمیرات ، اور برآمدات جیسے شعبوں کے لیے مختص اخراجات شامل ہیں۔ اگرچہ توقع ہے کہ اس پیکیج سے افراد اور کاروباری اداروں کو مطلوبہ ریلیف کافی حد تک ملے گا لیکن اس کے ساتھ ہی مختصر مدت میں یہ بڑے مالیاتی خسارے کا بھی سبب بنے گا۔بیرونی شعبے کے بارے میں اس رپورٹ میں اجاگر کیا گیا ہے کہ درآمدات میں تیزی سے کمی ، کارکنوں کی ترسیلات ِزر میں عمدہ نمو اور خدمات کے تجارتی خسارے میں تخفیف نے جولائی تا مارچ مالی سال 2019/20 کے جاری کھاتے کے خسارے کو گذشتہ سال کی نسبت کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم کورونا کی وبا سے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان سمیت ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں اپنے ملکی قرضوں اور ایکویٹی ہولڈنگز کو کم کرنے پر مجبور ہوئے ، جبکہ ترسیلاتِ زر میں نمو معتدل ہوگئی۔ ان عوامل کے ساتھ ساتھ حکومتی قرضوں کی ادائیگی سے مارچ 2020 میں زرِمبادلہ کے ذخائر متاثر ہوئے ۔ تاہم متعدد دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے مقابلے میں پاکستان کم متاثر ہوا ہے اور کثیر جہتی اور کمرشل رقوم کی آمد کے نتیجے میں پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر بحال ہوگئے ہیں۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ ملکی اور عالمی سطح پر کووڈ 19 کے پھیلاﺅ کے بعد مہنگائی کی صورتِ حال میں بہتری آئی۔ ملکی طلب میں نمایاں کمی، غذائی مہنگائی میں استحکام اور تیل کی قیمتوں میں تاریخی کمی نے وسط مدت میں مہنگائی کے امکانات کو اعتدال بخشا۔ زری پالیسی کمیٹی نے اس کے جواب میں سرعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وسط مارچ تا آخر جون 2020 تک اپنے پانچ اجلاسوں میں پالیسی ریٹ کو مجموعی طور پر 625 بیسس پوائنٹس کم کیا۔ اسٹیٹ بینک نے کاروباری اداروں اور گھرانوں کے لیے نقد رقوم کا انتظام کرنے کی غرض سے قرضوں کی اصل رقم موخر کرنے اور قرضوں کی تشکیل نو کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک نے تین نئی ری فنانسنگ اسکیمیں شروع کیں، جس کا مقصد ملک میں روزگار، نئی سرمایہ کاری اور بی ایم آرکو تقویت دینا اور صحت کی سہولتیں بہتر بنانا تھا۔ ان تمام اقدامات سے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو جو فائدہ پہنچایا گیا ہے اس کا تخمینہ 1.3ٹریلین روپے (جی ڈی پی کا 3.1 فیصد) ہے۔ حکومتی تحرکاتی پیکیج کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات کووڈ 19 کی وبا کے اثرات کا مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہورہے ہیں۔ فوری اثر کے علاوہ ان اقدامات سے کووڈ 19 کے بعد معیشت کی بحالی میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔