افغان شہری ہلاکتوں میں چھ ماہ کے دوران 13 فی صد کمی ہوئی، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ۔ 28 جولائی (اے پی پی) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران شہری ہلاکتوں میں 13 فی صد کمی واقع ہوئی ہے، 2012ء کے بعد یہ شہری ہلاکتوں کی سب سے کم تعداد ہے اور اس کی بڑی وجہ امریکا کے زیر قیادت اتحادی افواج اور داعش کی کارروائیوں میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن یو این اے ایم اے نے چھ ماہ کی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 3500 شہری ہلاک ہوئے، ان میں 1282 شہری طالبان اور سرکاری سیکورٹی فورسز کی جھڑپوں کی زد میں آئے۔مجموعی طور پر پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ کمی 13 فی صد ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے اس کمی کو خوش آئند قرار دیا اور کہا ہے کہ اس کی بڑی وجہ بین الاقوامی فورسز اور داعش کی افغانی شاخ کی کارروائیوں میں کمی قرار دی جا سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کْل ہلاکتوں میں سے 23 فی صد شہری ہلاکتوں کی ذمہ دار افغان قومی سیکورٹی فورسز کی کارروائیاں ہیں جن میں نو فی صد اضافہ ہوا ہے۔اس سال کے پہلے چھ ماہ میں افغان فضائیہ کے حملوں میں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تین گنا اضافہ ہوا،انھی حملوں کی وجہ سے بچوں کی زیادہ تعداد ہلاک ہوئی ہے۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان مسلح تنازعے میں براہ راست یا بلا واسطہ عورتیں اور بچے مسلسل شکار ہو رہے ہیں۔ یہ تعداد کل شہری ہلاکتوں کا 40 فی صد سے زیادہ بنتی ہے۔