خطے اور اس سے باہر مجموعی امن اور استحکام کے لئے پرامن اور مستحکم افغانستان ناگزیر ہے، امریکہ طالبان امن معاہدہ نے ایک تاریخی موقع پیدا کردیا ہے، افغان قیادت کو ایک جامع سیاسی تصفیے کے حصول کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا،ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ 6 جولائی (اے پی پی) پاکستان نے ایک بار پھر کہاہے کہ خطے اور اس سے باہر مجموعی امن اور استحکام کے لئے پرامن اور مستحکم افغانستان ناگزیر ہے۔ امریکہ طالبان امن معاہدہ نے ایک تاریخی موقع پیدا کردیا ہے، افغان قیادت کو ایک جامع سیاسی تصفیے کے حصول کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا۔ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول میں مدد کے لئے تمام فریقوں، علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کے مطابق پاکستان نے سوموار کو افغانستان حکومت کے زیر اہتمام امن کے لئے اتفاق رائے سے متعلق افغانستان کے بارے میں ایک ورچوئل کانفرنس میں حصہ لیا۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چیئرمین قومی مصالحتی کونسل برائے قومی سلامتی ڈاکٹر عبداللہ عبد اللہ سمیت متعدد ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔پاکستان نے خطے اور اس سے باہر مجموعی امن اور استحکام کے لئے پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ طالبان امن معاہدے نے ایک تاریخی موقع فراہم کر دیا ہے۔ ایک جامع سیاسی تصفیے کے حصول کے لئے افغان قیادت کو مل کر کام کرنا ہوگا۔پاکستان نے توقع ظاہر کی کہ امن معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی جلد ہی مکمل ہوجائے گی، جس سے انٹرا افغان مذاکرات کا جلد از جلد آغاز کیا جاسکے گا۔ پاکستان نے اس بات پر زور یا کہ بین الاقوامی برادری کو انٹرا افغان مذاکرات کو جلد شروع کرنے اور اس کی کامیابی کو یقینی بنانے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور ان ”شرپسندوں“ کو انٹرا افغان مذاکرات کو ڈی ریل نہیں کرنے دیا جائے جو افغانستان میں امن اور استحکام دیکھنا نہیں چاہتے۔پاکستان نے کویڈ 19 سے متعلق پروٹوکول پر عمدرآمد کے بعد افغانستان کیساتھ تجارت میں سہولت کی غرض سے بارڈر کراسنگ ٹرمینلز کھولنے کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو اجاگر کیا۔پاکستان نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور آبادکاری امن اور مفاہمتی عمل کا حصہ ہونا چاہئے۔ پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان مہاجرین کی با عزت وطن واپسی کے لئے پروگرام میں مکمل تعاون کریں۔