سپاٹ فکسنگ کیس، عمر اکمل کی سزا سے 18 ماہ کی پابندی ختم، سزا ڈیڑھ سال رہ گئی، عمر اکمل 19 اگست 2021ء کے بعد سے کرکٹ مقابلوں میں شرکت کر سکیں گے

اسلام آباد ۔ 29 جولائی (اے پی پی)سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر نے مقدمے کی سماعت کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے معطل وکٹ کیپر بلے باز عمر اکمل کی سپاٹ فکسنگ کیس میں سزا 3 سال سے کم کرکے ڈیڑھ سال کردی ہے۔ سپاٹ فکسنگ کیس میں 3 سالہ پابندی کے خلاف ٹیسٹ کرکٹر عمر اکمل کی اپیل کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا۔ نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں پاکستان کرکٹ بور ڈ(پی سی بی) کے آزادانہ ایڈجیوڈیکیٹر جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر نے 17 روز پہلے سماعت کے بعد محفوظ کیے گئے فیصلے سے دونوں فریقین کو آگاہ کیا جس کے مطابق عمر اکمل کی سزا میں ڈیرھ سال کمی کر دی گئی ہے۔ عمر اکمل اب 19 اگست 2021ء کے بعد سے کرکٹ سرگرمیوں میں شرکت کرنے کے اہل ہوں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ 2020ء کے آغاز سے پہلے دو مختلف واقعات میں عمر اکمل نے مشکوک لوگوں سے ملاقات کی تھی تاہم اس بارے میں ٹیسٹ کرکٹر نے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ جس پر لیگ شروع ہونے سے ایک روز پہلے 20 فروری کو انہیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں پی سی بی نے 20 مارچ کو باضابطہ طور پر ان پر الزام عائد کیا تھا۔ لیگ کے بعد پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹربیونل کے جج جسٹس ریٹائرڈ فضل میراں چوہان نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے انہیں 3 سال پابندی کی سزا سنائی تھی۔