ششانک منوہر نے چیئرمین آئی سی سی کا عہدہ چھوڑ دیا

کینبرا۔ 2 جولائی (اے پی پی) ششانک منوہر نے چار سال بعد آئی سی سی کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ انٹررنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) بورڈ کا گزشتہ روز اجلاس ہوا جس میں ششانک منوہر کے جانشین کو اگلے ہفتے تک حتمی شکل دے دی جائے گی اور تب تک ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کو عبوری چیئرمین کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو منو سہنی نے کہا ہے کہ میں آئی سی سی بورڈ، عملے اور پوری کرکٹ فیملی کی جانب سے ششانک منوہر کی قیادت اور بحیثیت آئی سی سی چیئرمین انکے کھیل کی ترقی کے لئے کئے گئے اقدامات پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ ہم ان کے اور ان کے اہل خانہ کی مستقبل کی نیک خواہشات اور تمناﺅں کے لئے دعاگو ہیں۔ ششانک منوہر 2016ءمیں انٹررنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی چیئرمین شپ میں شامل ہوئے تھے۔ ششانک منوہر بلامقابلہ آئی سی سی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ 2018ءمیں دوسری مرتبہ پھر بلامقابلہ آئی سی سی کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ منوہر نے اپنے عہدے کے پہلے دو سالوں میں بھارت کرکٹ اینڈ کنڑول بورڈ (بی سی سی آئی) کی سخت مخالفت کے باوجود آئی سی سی کی حکمرانی کے ڈھانچے اور مالی ماڈل میں تبدیلیوں کی نگرانی کی۔ جب 2018ء میں الیکشن کا وقت تھا اس وقت منوہر کی نامزدگی صرف آئی سی سی میں ڈائریکٹرز نے پیش کی تھی۔عمران خواجہ نے کہا کہ آئی سی سی بورڈ میں موجود ہر شخص ششانک منوہر کی کھیل سے وابستگی اور اسکی ترقی کے لئے کی گئی کوششوں پر ان کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ششانک نے کھیل کی فلاح و بہبود کے لئے جو کچھ بھی کیا ہے اس پر ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کرکٹ اور آئی سی سی کو چھوڑ دیا ہے۔ ششانک منوہر نے اپنا عہدہ ختم ہونے سے قبل ہی کولن قبرس کا چیئرمین آئی سی سی کے امیدوار کے لئے پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں۔ ای سی بی کے چیئرمین کی حیثیت سے کولن قبرس کے عہدے کی مدت 3 اگست کو ختم ہو جائے گی، کولن قبرس بھی اس نشست کے لئے اگلے امیدواروں میں شامل ہیں۔ آئی سی سی کے آئین کے مطابق ، بورڈ میں موجودہ ڈائریکٹروں میں سے ایک یا سابقہ ڈائریکٹر (جس نے چھ سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک زمہ داریاں نبھائیں ہوں) تو وہ چیئرمین کے عہدے کے لئے انتخاب لڑنے کے اہل ہوتا ہے۔