ماضی کی حکومتوں نے ماحولیات کو اہمیت نہیں دی، وقت آ گیا ہے کہ ہم ماحول کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کریں، نیشنل پارکس کا قیام آنے والی نسلوں کے لئے اہم قدم ہے وزیراعظم عمران خان کا 15 نیشنل پارکس کے قیام کے منصوبے کے آغاز کے موقع پر خطاب

اسلام آباد ۔ 2 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ماحولیات کو اہمیت نہیں دی، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماحول کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کریں، نیشنل پارکس کا قیام آنے والی نسلوں کے لئے اہم قدم ہے۔ ایکو ٹورازم کو سمجھنے اور دنیا سے سیکھنے کی ضرورت ہے، مقامی لوگوں کی شمولیت سے پارکس اور نایاب جانوروں کی حفاظت ممکن ہوگی اور روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ نئے سیاحتی علاقے کھولنے سے قبل بائی لاز بنائے جائیں، شہروں کے لئے بھی ماسٹر پلان اور ٹائون پلاننگ کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ماحول محفوظ بنانے کے بڑے اقدام کے تحت 15 نیشنل پارکس کے قیام کے منصوبے کے آغاز کے موقع پر کیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کے علاوہ وڈیو لنک کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سمیت صوبائی حکومتوں بشمول گلگت بلتستان و آزاد کشمیر کے نمائندے بھی موجود تھے۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک، آئی یو سی این کے کنٹری ڈائریکٹر اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر ڈائریکٹر بھی تقریب میں موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس منصوبے کے آغاز پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے، اگر ہم نے اپنے خوبصورت سیاحتی علاقوں کو نہ بچایا تو آنے والی نسلوں کو یہ علاقے دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خوبصورتی سے مالا مال اور تنوع سے بھرپور ملک ہے، یہاں 12 ایکولوجیکل زونز ہیں، دنیا میں کہیں اس طرح کا تنوع نہیں پایا جاتا لیکن لوگ اس سے آگاہ نہیں ہیں۔ ہمارے صاحب اقتدار لوگ چھٹیاں منانے باہر جاتے تھے جہاں ان کے بڑے بڑے محلات ہیں، وہ پاکستان کی خوبصورتی سے واقف ہی نہیں، پاکستان کی وائلڈ لائف میں دنیا کوگہری دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 15 نیشنل پارکس کے قیام کا فیصلہ آنے والے نسلوں کے لئے اہم قدم ہے۔ ہمیں ابھی تک نیشنل پارکس کو چلانے کا طریقہ نہیں آتا، ہمیں سمجھ ہی نہیں ہے کہ اس کا انتظام و انصرام کیسے کرنا ہے اور اسے کیسے محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکو ٹورازم کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ہمارے نئے سیاحتی علاقے ابھی تک اس لئے محفوظ ہیں کہ وہاں تک رسائی کے لئے سڑکیں نہیں ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ہدایت کی کہ نئے سیاحتی علاقے اس وقت تک نہ کھولے جائیں جب تک ان کے حوالے سے قواعد و ضوابط (بائی لاز) نہ بن جائیں۔ ایسے علاقوں میں گاڑیاں لے جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے ورنہ وہ تباہ ہو جائیں گے۔ بہت سے سیاحتی علاقے اسی لئے تباہ ہو گئے کہ وہاں کیلئے بائی لاز نہیں بنائے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایکو ٹورازم کے تقاضوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ مارگلہ ہلز کو بھی خراب کیا گیا۔ ہم نے اس کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس ملک کو بے تحاشہ نعمتیں اور خوبصورتی دی ہے۔ ہم نے 70 سالوں میں ان نعمتوں کی قدر نہیں کی۔ جنگلات بے دردی سے کاٹے جاتے رہے اور ڈویلپمنٹ کرتے وقت ماحول کا خیال نہیں کیا گیا۔ آبادی تین گنا ہو چکی ہے، آہستہ آہستہ سارے علاقے تباہ ہو رہے ہیں۔ ہم نے اپنے سیاحتی علاقوں کو بچانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 15 نیشنل پارکس تمام صوبوں اور علاقوں میں قائم کئے جائیں گے۔ صوبے بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت رہنمائی کرے گی کہ کیسے ان کو محفوظ بنانا ہے۔ مقامی لوگوں کو فائدہ ہوگا تب ہی یہ پارکس بچیں گے۔ مقامی لوگوں کو اس طرح سے روزگار بھی میسر آئے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ چترال میں مارخور کی نسل کو محفوظ بنانے کے لئے مقامی آبادی کو شامل کیا گیا۔ اس کے بہترین نتائج سامنے آئے۔ اب مقامی لوگ خود اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جہاں برفانی چیتے کی نایاب نسل موجود ہے۔ اسی طرح مارکوپولو شیپ میں بہت سے نایاب جانور پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کو شامل کرنے سے نیشنل پارک اور نایاب جانوروں کے تحفظ میں مدد ملے گی اور عوام کو روزگار بھی حاصل ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نئے سیاحتی علاقے کھولنے سے قبل ایکو ٹورازم کے حوالے سے بائی لاز بنائے جائیں۔ ہمیں اس حوالے سے دنیا سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی ہمارے ملک کے لئے بڑا خطرہ ہیں چونکہ گلیشیئرز پگھلنے اور موسم کی تبدیلی سے ہم شدید متاثر ہوں گے۔ ہم نے 100 ارب درخت لگانے کا منصوبہ شروع کیا۔