وزیر اعظم عمران خان کا آزادپتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی چینی کمپنی گیزوبا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 6 جولائی (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کو تیز ترین تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا، پاکستان کا معاشی مستقبل سی پیک کے جاری منصوبوں کی تکمیل سے منسلک ہے۔ وہ پیر کو یہاں آزادپتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی چینی کمپنی گیزوبا کے ساتھ معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔700 میگا واٹ کے آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے لئے چین کے گیزوبا گروپ کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کئے گئے۔ وزیر اعظم آفس میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کا حصہ ہے۔منصوبہ 1.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے تعمیر کیا جائے گا. 700.7 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے تعمیر کئے جانے والے آزاد پتن منصوبہ کی تکمیل سے بجلی پیدا کرنے کیلئے تیل کی درآمدات پر انحصار کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور اس سے ملک آبی وسائل سے سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کرنے کی راہ پر گامزن ہو گا۔مزید برآں منصوبہ سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔دریائے جہلم پر واقع یہ منصوبہ 2026 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو چین کی تیز رفتار تعمیر وترقی سے سیکھنا چاہیئے کیونکہ چین دنیا کی معاشی طاقت ہے، ہم چینی تجربات سے مستقبل میں سیکھیں گے، سی پیک کی ترقی و خوشحالی کے لئے مختلف روشن پہلو ہیں۔ معاہدے پر دستخط کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کلین انرجی کی بنیاد پر توانائی کا منصوبہ ہے، ماضی میں حکومتیں درآمد شدہ فیول پر منصوبے لگاتی تھیں جو انتہائی زائد لاگت کے ہوتے تھے جبکہ اس منصوبہ کا عوام پر کوئی بوجھ نہیں ہو گا، ماضی کی حکومتوں کے زائد قیمت منصوبوں کی وجہ سے بجلی کی قیمت بڑھی۔ انہوں نے کہا کہ ان پالیسیوں کی وجہ سے پاور انڈسٹری نقصان میں ہے اور اس کا اثر صارفین پر بھی پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کم قیمت توانائی کی پیداوار کے حوالے سے اپنے پڑوسی ممالک سے مقابلہ نہیں کر سکتا، پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کلین انرجی کے حوالے سے ایک بڑا ذریعہ ہیں جبکہ ان کی حکومت کے کلین اور گرین پاکستان کی پالیسی کے عین مطابق ہے، اس سے گلوبل وارمنگ کے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر وزارت توانائی، سی پیک اتھارٹی، آزاد جموں و کشمیر اور پنجاب کی حکومتوں کو اس منصوبے پر سراہا۔ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اس موقع پر کہا کہ یہ منصوبہ ملکی وسائل کو استعمال میں لا کر مکمل کیا جائے گا، کوویڈ 19 وباءکے باوجود سی پیک منصوبے تیزی سے جاری ہیں جس سے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دس دنوں کے دوران انہوں نے 4 ارب ڈالر لاگت کے سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دستخط کئے ہیں جس سے ملک کو 1800 میگاواٹ کم لاگت بجلی کی پیداوار حاصل ہو گی جبکہ ان منصوبوں سے 8 ہزار مقامی افراد کو ملازمتیں ملیں گی۔ پاکستان میں چین کے سفیر یاﺅ جنگ، چینی کمپنی کے حکام، وزراءاور اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔