طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ ملک اور اداروں کے بہترین مفاد میں ہے، وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کا انٹرویو میں اظہار

اسلام آباد ۔ 6 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے پی آئی اے کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے اور عظمت رفتہ بحال کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے جو ماضی میں دنیا کی بہترین ایئر لائن ہوا کرتی تھی۔ وائس آف امریکہ کو دیئے گئے اپنے تازہ انٹرویو میں وفاقی وزیر نے پائلٹوں کے جعلی یا مشکوک لائسنسوں کے حوالے سے حالیہ بیان کو غیر ذمہ دارانہ یا قبل از وقت ہونے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ ملک اور اداروں کے بہترین مفاد میں ہے۔ غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر چونکہ فضائی آپریشن معطل ہے لہذا پاکستان کو یہ موقع ملا ہے کہ پی آئی اے میں پائی جانے والی خامیوں کو درست کیا جا سکے۔ وزیر ہوا بازی کہتے ہیں کہ کراچی فضائی حادثے کے بعد قومی ایئر لائن نے تمام جہازوں کی انٹرنیشنل انجینئرز سے سرٹیفکیشن حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پائلٹس سمیت تمام تکنیکی عملے کی اسناد، تربیت اور ذہنی صحت کو جانچنے کا عمل شروع ہو گیا ہے تاکہ قومی ایئر لائن پر دنیا کا اعتماد بحال ہوسکے اور پی آئی اے عالمی ایئر لائن کے طور سامنے آئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری نہیں، بلکہ تنظیم نو کرنا چاہتی ہے۔ اسی بنا پر اس کے جہازوں کو 30 سے بڑھا کر 45 کیا جارہا ہے۔ روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا پی آئی اے اور قوم کے بہترین مفاد میں کیا جائے گا۔