پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کی تباہی سے سبق سیکھنا چاہئے، میزبان ٹیم کے خلاف آنے والی سیریز کے لئے منصوبہ بندی کرنا چاہئے، رمیز راجہ

اسلام آباد ۔ 23 جولائی (اے پی پی)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کی تباہی سے سبق سیکھنا چاہئے اور اسی کے مطابق انگلینڈ کے خلاف آنے والی سیریز کے لئے منصوبہ بندی کرنا چاہئے۔ اپنے ایک بیان میں رمیز راجہ نےکہا کہ انگلینڈ کے خلاف پاکستان کے بلے بازوں کو اپنی اننگز بنانے کا فن سیکھنا پڑے گا۔ صرف نصف سنچریاں سکور کرنا کافی نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ اگر تین بلے باز نصف سنچری بناتے ہیں تو یہ کام نہیں کرے گا کیونکہ اس سے جیت یقینی نہیں ہوگی جو بھی بلے باز پچاس رنز بنائے گا تو انہیں اسے سو میں تبدیل کرنا پڑے گا۔ یہ بہت اہم ہے. رمیز راجہ نے کہا کہ انگلینڈ کے پاس مضبوط باولنگ لائن اپ ہےجس نے دوسرے ٹیسٹ میں شارٹ پچ گیندوں کو استعمال کر کے ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ لائن کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کے باولرز قومی بلے بازوں کو آﺅٹ کرنے کے لئے باﺅنس دینے کے وہی حربے استعمال کریں گے۔ پاکستان کو ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کی تباہی سے سبق لینا چاہئے۔ مجھے لگتا ہے کہ ویسٹ انڈیز کی طرح پاکستان کے بلے بازوں پر باﺅنسروں گیندوں سے حملہ ہوگا لہذا انہیں ان گیندوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ رمیز راجہ کے مطابق پاکستان کے بلے بازوں کے لئے اصل چیلنج اس وقت ہوگا جب وہ نئی گیند سے انگلش باولز کا مقابلہ کریں گے۔ میں پہلے ہی بتاچکا ہوں کہ پاکستان کو تین اوپنرز کے ساتھ کھیلنا چاہئے کیونکہ انگلینڈ کے خلاف جنگ نئی گیند سے ہوگی۔ امام الحق جو کہ تجربہ رکھتے ہیں کو ون ڈاﺅن پوزیشن پر آنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا اگر پاکستانی بلے باز فاسٹ باﺅلنگ پر قابو پانے میں کامیاب ہوتا ہے تو وہ میچ جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عابد علی فارم میں ہیں کیونکہ وہ رنز بنا رہے تھے لیکن اس بار وہ مشکل حالات میں بیٹنگ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کے باﺅلر شارٹ بالز کی کوشش کریں عابد علی کو ان بالز کو چھوڑنا چاہیے، عابد علی شارٹ بالز کو اچھی طرح سے نہیں کھیلتےاس لئے انہیں باﺅنسرز کا خیال کرنا چاہیے۔ انگلینڈ کے باﺅلر مکمل ہوم ورک کے ساتھ آئیں گے اور ان کی فارم کو خراب کرنے کی کوشش کریں گے۔ رمیز راجہ نے کہا کہ پریکٹس میچوں کے دوران پاکستان کے لئے موقع تھا کہ وہ ٹیسٹ سیریز میں انگلینڈ کے بالروں کے ذریعے ٹیسٹ کے طریقوں پر کام کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے خود کو تیار کرنا چاہئے کہ دوسرے ٹیسٹ میں انگلش پیسرز کے ذریعہ ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کو کس طرح آوٹ کیا گیا. پریکٹس میچوں کے دوران یہ بہتر ہوتا اگر پاکستان کے فاسٹ باولرز پورے سیشن میں صرف شارٹ پچز پر ہی گیند کرتے۔ رمیز راجہ نے پاکستانی بلے بازوں کو پریکٹس میچوں میں زیادہ رنز بناتے ہوئے بھی خوشی کا اظہار کیا۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہم پریکٹس میچوں میں سنچریاں دیکھ چکے ہیں۔ یہ بھی ایک مثبت علامت ہے کہ حیدر علی نے پچاس رن بنائے ہیں۔ رمیز راجہ نے کہا کہ حیدر علی ایک نوجوان کھلاڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدر علی بھی بابر اعظم کی طرح باصلاحیت ہیں۔ اس کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے کیونکہ ہم نے حیدر علی کی شکل میں ایک اور بابر اعظم کو پایا ہے تو یہ پاکستان کے لئے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بھی ٹیم کے ساتھ لے جانا چاہئے جس طرح سابق کپتان عمران خان نے انضمام الحق کو ساتھ لیا اور انہیں کس طرح ہیرو بنا دیا۔انہوں نے یاد دلایا کہ 1992ءکے ورلڈ کپ کے دوران کپتان عمران خان انضمام کو ٹیم میٹنگز میں کہتے تھے کہ وہ لیجنڈ ہے اور وہ اپنے آپ کو جاوید میانداد سے بھی بڑا اسٹار ثابت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک عظیم سٹار بن کر ثابت کیا. میں امید رکھتا ہوں کہ جب حیدر علی انگلینڈ کے دورے سے واپس آئیں گے تو وہ سپر اسٹار بنیں گے کیونکہ ان میں بہت زیاد ٹیلنٹ موجود ہیں۔