چھانگا مانگا جنگل میں نئے پودوں کی شجر کاری سے شہد کی پیداوار میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ، پیداوار 1300 کلو گرام تک بڑھ گئی

اسلام آباد ۔ 9 جولائی (اے پی پی) چھانگا مانگا جنگل میں نئے پودوں کی شجر کاری سے شہد کی پیداوار میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2018-19ء کے دوران جنگل سے 725 کلو شہد کی پیداوار حاصل ہوئی تھی جبکہ گزشتہ مالی سال 2019-20ء کے دوران دو گنا اضافہ سے شہد کی پیداوار 1300 کلو گرام تک بڑھ گئی۔ فاریسٹ آفیسر شاہد تبسم نے کہا ہے کہ چھانگا مانگا جنگل لاہور کے قریب انسان کا لگایا ہوا دنیا کاسب سے بڑا جنگل ہے جس کا رقبہ 6 ہزار ایکڑ یعنی 2428 ہیکٹرز پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جنگل سے درختوں کی کٹائی میں اضافہ ہو گیا تھا تاہم موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے جنگ میں 3.5 ملین نئے درخت لگائے گئے ہیں جس سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ زمین کی ذرخیزی اور آبی وسائل کے بہتر انتظام کار میں معاونت حاصل ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک چھانگا مانگا جنگل سے شہد کی پیداوار 2 ہزار کلو سے بڑھنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے جنگل میں تین مختلف اقسام کے پودے موجود تھے تاہم نئے پودوں کی شجرکاری کے دوران سات اقسام کے مختلف نئے پودے بھی لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شہد کی پیداوار میں نمایان اضافہ کی وجہ سے درختوں کی تعداد میں اضافہ ہے کیونکہ درختوں سے شہد کی مکھیوں کو نہ صرف تحفظ حاصل ہوتا ہے بلکہ انہیں سایہ اور پانی بھی دستیاب ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہد کی مکھیوں کو زیر کاشت رقبہ میں اضافہ، کیڑے مار زرعی ادویات کے نامناسب استعمال اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔