ایف بی آر کی جعلی اور فلائنگ انوائسز میں ملوث افراد کے خلاف کارروا ئی،کراچی میں جعلی کاروباری یونٹ کے ذمہ داران گرفتار، ملتان میں جعلی اور نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ ضبط

اسلام آباد ۔ 19 اگست (اے پی پی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے جعلی اور فلائنگ انوائسز میں ملوث افراد کے خلاف کارروا ئی کے دوران ایف بی آر کراچی آفس نے جعلی کاروباری یونٹ کے ذمہ داران کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے جعلی اور فلائینگ انوائیسز کے خلاف کاروائی کے احکامات کے بعد ایف بی آر کے تمام فیلڈ دفاتر ٹیکس چوری کے سد باب کے لئے متحرک ہو گئے ہیں۔ کراچی میں جعلی کاروباری یونٹ ایس آر او 1125 کے تحت درآمدی سطح پر عائد ڈیوٹیز اور ٹیکس کی چور ی کر رہا تھا۔ جعلی کاروباری یونٹ جعلی اور فلائنگ انوائیسز بھی جاری کر رہا تھا جس کی وجہ سے جھوٹی ان پٹ ایڈ جسٹمنٹ اور ریفنڈز کے لئے دعوی دائر کیا جاتا تھا۔ اس ٹیکس فراڈ کے نتیجے میں قومی خزانے کو 210 ملین کا نقصان پہنچا ہے۔ ایف بی آر نے مرکزی ملزم مبارک خان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسی طرح کراچی میں 105 ملین روپے کی ایک اور ٹیکس چوری کاکیس پکڑا گیا ہے جس کی وجہ سے جعلی اور فلائینگ انوائیسز جاری کی جار ہی تھی۔ ایف بی آر کے ملتان آفس نے جعلی اور نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹس کو ضبط کر لیا ہے۔ ایف بی آر کے کراچی آفس میں ا ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی شکایت درج ہوئی ہے جس پر ایکشن لیا جا رہا ہے۔ ترجمان ایف بی آر نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ و ہ ٹیکس چوری کے سدباب کے لئے ایف بی آر کا ساتھ دیں۔ ایف بی آر اطلاع دینے والوں کو رولز کے تحت نقد انعام دے گی اور ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں معلومات ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر انٹیلیجنس اینڈ انوسٹی گیشن آئی آر کو فون نمبر 0519260167 اور فیکس نمبر 0519260156 پر دی جا سکتی ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ کچھ ملازمین پرائیویٹ طور پرٹیکس قوانین کی پریکٹس کر رہے ہیں جو کہ سول سرونٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ ایف بی آر ان تمام ملازمین کے بارے میں ضروری معلومات اکھٹی کر رہا ہے تا کہ ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جا سکے۔ اس سلسلے میں ایف بی آر نے عوام الناس سے بھی اپیل کی ہے کہ ایف بی آر کے ملازمین کی اس قسم کی سرگرمیوں کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فوری طور پر فون نمبر 0519201408 یا ای میلmemberadmin@fbr.gov.pkپر فراہم کر دیں۔ اطلاع دینے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔