وزیراعظم کا قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاﺅسنگ، تعمیرات و ترقی کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 13 اگست (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ تمام تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل مقررہ مدت میں یقینی بنائی جائے، تعمیرات کے شعبہ میں تمام مراحل کی آٹومیشن، ڈیجیٹلائزیشن اور نظام کو آسان بنانے پر بھرپور توجہ دی جائے، ایف بی آر کی جانب سے کاروباری برادری کیلئے آسانیاں فراہم کرنا خوش آئند ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اپنی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاﺅسنگ، تعمیرات و ترقی کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز، معاون خصوصی برائے بیرون ملک پاکستانیز سیّد ذوالفقار عباس بخاری، متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز، چیئرمین نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئیرمین ایف بی آر و دیگر سینئر حکام نے شرکت کی جبکہ چیف سیکرٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ معروف کاروباری شخصیات عارف حبیب، عقیل کریم ڈھیڈی، محسن شیخانی اور حسن بخشی کی بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے تعمیرات کے شعبے میں فراہم کی جانے والی سہولت کاری اور نئے اقدامات، صوبہ بلوچستان میں تعمیرات کے شعبے میں نئے منصوبے، وفاقی دارالحکومت بلیو ایریا میں پلاٹوں کی نیلامی اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دی گئی۔ ایف بی آر کی جانب سے تعمیرات کے شعبے میں فراہم کی جانے والی سہولت کاری اور نئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے چئیرمین ایف بی آر نے وزیرِاعظم کو بتایا کہ ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں کی سہولت کاری کے لئے تعمیراتی منصوبوں، ڈویلپرز اور بلڈرز کے لئے آن لائن ر جسٹریشن کا نظام متعارف کرایا ہے جس سے تعمیرات کے شعبے میں ٹیکس دہندگان کو خاطر خواہ آسانی میسر آ ئے گی۔ اس اقدام کی میڈیا و دیگر ذرائع سے تشہیر کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایف بی آر کی جانب سے ویبنار کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اس وقت تک 40 منصوبے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں جبکہ 4812 منصوبوں کی رجسٹریشن پر کام جاری ہے۔ بلوچستان میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں اور ہاﺅسنگ منصوبہ جات کے بارے میں چیف سیکرٹری بلوچستان نے وزیراعظم کو بتایا کہ وزیرِاعظم کی ہدایات کی روشنی میں این او سیز و دیگر منظوریوں کے عمل کی مدت کو کم کر کے 20 دن کر دیا گیا ہے کنٹریکٹرز اور پراپرٹی ڈویلپرز کے لئے سیلز ٹیکس کو کم کرکے رہائشی سکیموں کے لئے 60 روپے مربع گز جبکہ کمرشل کے لئے 50 روپے مربع گز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف دیگر ٹیکسز کی شرح کو بھی کم کیا گیا ہے۔ ان میں اسٹام ڈیوٹی، سی وی ٹی، ٹرانسفر ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔ مختلف رہائشی منصوبوں کے بارے میں چیف سیکرٹری نے بتایا کہ اس وقت گوادر میں 14 ہزار ایکٹر رقبے پر 79 رہائشی منصوبے زیر غور ہیں۔ 104 منصوبوں کے لئے این او سیز کی منظوری دی جا چکی ہے۔ سرکاری ہاﺅسنگ منصوبوں میں کچلاک ہاﺅسنگ منصوبے میں 714یونٹس اور 600 اپارٹمنٹس تعمیر کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ، اوڑمارہ، پسنی اور گوادر میں رہائشی منصبوں کے لئے ایم او یوز پر دستخط ہو چکے ہیں اور سائٹس کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی کے تحت کم آمدنی والے افراد کے لئے رہائشی منصوبوں کے بارے میں بھی اجلاس کو بریف کیا۔ وفاقی دارالحکومت میں بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے رہائشی سیکٹر اور بلیو ایریا میں واقع پلاٹس کی نیلامی کے حوالہ سے چیئرمین سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے رہائشی سیکٹر پارک انکلیو تھری اور ستمبر میں بلیو ایریا کے پلاٹس کے لئے ہونے والی نیلامی کے بارے میں وزیرِاعظم کو بریف کیا۔ بلیو ایریا میں اضافی تعمیرات کے حوالے سے عائد ٹیکسوں میں خاطر خواہ کمی کرنے کی تجویز بھی وزیرِ اعظم کو پیش کی گئی۔ اجلاس میں شریک کاروباری برادری کے نمائندوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ حکومت کی جانب سے تعمیرات کے شعبے میں اس قدر آسانیاں فراہم کی گئی ہیں اور منظوریوں کا عمل نہ صرف آسان بلکہ تیز ہو رہا ہے۔ حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے نہ صرف سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے تعمیرات سے وابستہ کاروباری برادری کے لئے آسانیاں فراہم کرنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہفتہ وار ویبنار کے انعقاد کا اہتمام کیا جائے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے میں تمام مراحل کی آٹو میشن، ڈیجیٹلائزیشن اور نظام کو آسان بنانے پر بھرپور توجہ دی جائے۔ حکومت بلوچستان کی جانب سے ٹیکسز کی شرح میں کمی لانے کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی کہ اس میں مزید کمی لانے اور ٹیکسوں کو دیگر صوبوں کی سطح پر لانے کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ پورے ملک میں تعمیرات کے حوالے سے یکساں شرح ٹیکس کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ تمام تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل مقررہ ٹائم لائنز میں یقینی بنائی جائے۔