وزیر اعظم عمران خان ”احساس نشو و نما پروگرام” کاجمعرات کو باقاعدہ افتتاح اور ضلع خیبر میں قائم نشوونما مرکز کا دورہ کریں گے پہلے مرحلے میں نشوونما پروگرام کے تحت ملک بھر کے 9 اضلاع میں 33 نشوونما مراکز قائم کیے جائیں گے

وزیر اعظم عمران خان احساس نشو و نما پروگرام

اسلام آباد ۔ 13 اگست (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان احساس نشو و نما پروگرام کا جمعرات کو باقاعدہ آغاز کریں گے، اس سلسلہ میں وزیر اعظم ، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہمراہ خیبر پختونخواکے قبائلی ضلع خیبر میں قائم نشوونما مرکز کا دورہ کریں گے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق احساس نشوونما ملکی تاریخ میں سٹنٹنگ کی روک تھام کا پہلا حکومتی پروگرام ہے۔ ماضی میں کسی حکومت نے اس مسئلے پر توجہ نہیں دی،پاکستان میں بچوں میں سٹنٹنگ کامسئلہ ہمیشہ سے وزیراعظم عمران خان کی ترجیحات میں شامل رہاہے۔ سٹنٹنگ کی بیماری کی شرح کے لحاظ سے پاکستان خطے میں دوسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں 40فیصد بچے غذائی قلت اور دیگر وجوہات کی بنا پر سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ سٹنٹنگ کے مرض میں مبتلا افراد یا بچے اپنے قدرتی قد اور ذہنی صلاحیت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ پروگرام کی تفصیلات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تین سالہ نشوونما پروگرام کا بجٹ 8.52 ارب روپے ہے، یہ پروگرام مکمل طور پر حکومت کی طرف سے فنڈڈ ہے اور اس پروگرام کے تحت مائوں اور بیماری کے شکار بچوںکو صحت بخش غذا کی فراہمی کے ساتھ سہ ماہی نشوونما وظیفہ بھی دیا جائے گا۔ پروگرام کے تحت بچیوں کے لیے2000 روپی سہ ماہی وظیفہ اور بچوں کے لیے1500روپے سہ ماہی وظیفہ دیاجائے گا۔ پہلے مرحلے میں نشوونما پروگرام کے تحت ملک بھر کے 9 اضلاع میں 33 نشوونما مراکز قائم کیے جارہے ہیں جن میں ضلع خیبر، اپر دیر، باغ،غذر، ہنزہ، خارمنگ، خاران، بدین اور راجن پور شامل ہیں۔ ان اضلاع کی نشاندہی ان کے ہائی سٹنٹنگ ریٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اگست کے آخر تک پہلے مرحلے کے تمام 33 نشوونما مراکز قائم کر دیے جائیں گے۔ دو سال سے کم عمر کے بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں میں غذائی کمی کے باعث سٹنٹنگ سے بچاؤ کے لیے احساس نشوونما پروگرام شروع کیا گیاہے۔ یہ پروگرام ڈیڑھ سال کی جامع منصوبہ سازی، تکنیکی مشاورت اور پبلک پرائیویٹ اشتراک کا نتیجہ ہے۔ احساس نشوونما پروگرام میں احساس کو عالمی ادارہ خوراک کا تعاون حاصل ہے ۔ پہلے مرحلے میں احساس نشوونما پروگرام کے تحت ملک بھر کے 9 اضلاع میں مجموعی طور پر 33 نشوونما مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔ پہلے مرحلے کے 9 اضلاع میں خیبر، اپر دیر، باغ،غذر، ہنزہ، خارمنگ، خاران، بدین اور راجن پور شامل ہیں۔ اگست کے آخر تک پہلے مرحلے کے تمام 33 نشوونما مراکز قائم کر دیئے جائیں گے۔ صوبہ پنجاب میں ضلع راجن پور میں 4 نشوونما مراکز قائم کیے جا چکے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے اضلاع اپر دیر میں 6، خیبر میں 3 نشوونما مراکز قائم ہوچکے ہیں۔ صوبہ سندھ میں ضلع بدین میں 6 نشوونما مراکز قائم کیے جائیں گے۔ صوبہ بلوچستان میں ضلع خاران میں 3نشوونما مرکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں ضلع باغ میں 3 نشوونما مراکز قائم ہوںگے۔ گلگت بلتستان میں 8 نشوونما مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ہراحساس نشوونما مرکز پراحساس کی صارف خواتین اورانکے بچوں کو بہت سی سہولیا ت فراہم کی جائیں گی۔ نشوونما صارفین کی صحت کا ریکارڈ رکھنے کے لیے نشوونما ایپ تیار کی گئی ہے۔ نشوونما صارفین کی رہنمائی کے لیے خصوصی رہنماکتابچہ بھی مرتب کیا گیا ہے۔ ہر نشوونما مرکز پر احساس مستحقین خواتین کی سہولت کے لیے علیحدہ رجسٹریشن ڈیسک قائم کیا گیا ہے۔ رجسٹریشن ڈیسک پرمتعین عملہ نشوونما ایپ میں حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور انکے نوزائیدہ بچوں کا اندراج کرے گا۔ رجسٹریشن کے بعدعملہ خواتین اوران کے دوسال سے کم عمربچوں کاسٹنٹنگ سے منسلک قد، وزن اورصحت کا تفصیلی معائنہ کرے گا۔ متاثرہ بچوں اورخواتین کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات لگانے کا انتظام بھی احساس نشوونما مراکز میں کیا گیا ہے۔ احساس نشوونما کی صارف خواتین کی آگاہی سیشن میں شمولیت کو لازم قراردیا گیا ہے۔ آگاہی نشستوں کا علاقائی زبانوں میں خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ نشوونما صارف خواتین کی آگاہی کے لیے خوراک، صفائی اور صحت کے حوالے سے خصوصی چارٹ،پوسٹرز اورمعلوماتی ویڈیوز مرتب کیے گئے ہیں۔ پروگرام کے تحت سہ ماہی نشوونما وظائف کی بہ سہولت بائیومیٹرک ادائیگیوں کے لیے تمام نشوونما مراکز پر اے ٹی ایم مشینیں خاص طور پر نصب کی جارہی ہیں۔ صحت بخش غذا حاصل کرنے کے بعد خواتین مرکز پر قائم اے ٹی ایم مشین سے نشوونما وظیفے کی رقم حاصل کرسکیں گی۔