وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی کی نماز عید کے بعد میڈیا سے بات چیت

ملتان ۔ یکم اگست (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیریوں پر بھارت کا ظلم مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہاکہ 3 اگست کو لائن آف کنٹرول پر جاو¿ں گا۔ پاکستانی علاقے میں کھڑے ہو کر بھارت کو پیغام دوں گا اور دنیا کو بتاو¿ں گا کہ بھارت مسلم اکثریت کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام بھارتی ظلم و استبداد کی مذمت کرتے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے دربار حضرت بہاﺅالدین زکریا پر نماز عید کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے مزیدکہا کہ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی محاصرے کو ایک سال مکمل ہو گا، کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کے لیے 5 اگست کویوم استحصال منائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں عید الاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں کمشیریوں کا جھنڈا گرایا گیا، ان پر جبر کیا گیا، آج بھی شاید جامع مسجد سری نگر میں عید کی نماز ادا نہ کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ بھارت بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کر کے پورے امت مسلمہ کا استحصال کر رہا ہے۔شاہ محمودقریشی نے مزید کہاکہ 5 اگست کو صبح 10 بجے کشمیریوں سے یکجہتی کےلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔ وزیر اعظم کشمیر اسمبلی سے خطاب کریں گے جب کہ صدر مملکت اسلام آباد میں ریلی کی قیادت کریں گے اور مختلف شہروں میں کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ریلیاں اور سیمینار ہوں گے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اراکین اسمبلی بھی ان سیمیناروں اور مظاہروں میں شرکت کریں گے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ ملک میں کورونا مریضوں کی تعداد کم ہو گئی ہے لیکن اگر غفلت ہوئی تو محنت رائیگاں جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عید ماضی کی عیدوں سے مختلف ہے، قوم کو چاہیے کورونا ایس اوپیز پر عمل کریں۔ اس سال حج بھی ماضی کے حج سے بھی مختلف تھا۔حاجیوں کو محدود کر دیا گیا تھا، قوم سے گزارش ہے کہ فرائض نبھائیں لیکن احتیاط کریں۔ نیا پاکستان ہاو¿سنگ اسکیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سستے گھروں کے پروگرام میں پیش رفت ہوئی، بلڈرز نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اگلے دو تین ماہ میں 1300 ارب روپے کی سرمایہ کاری کریں گے۔ اس سے پاکستانی معیشت میں استحکام آئےگا۔جنوبی پاکستان صوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنے گا۔ وزیراعظم کی جنوبی پنجاب کے اراکین قومی اسمبلی سے بات کروائی، جنوبی پنجاب کی فائل لاہور نہیں جائےگی۔ تمام اختیارات حاصل ہوں گے، جنوبی پنجاب کے لیے کئی دہائیوں سے آواز اٹھائی گئی لیکن ہم نے بہت بڑی پیش رفت کی۔