پاکستان کے معاشی اشاریوں میں مثبت رجحان بحال ہوچکا ہے ، وفاقی وزیر اسد عمر کا انٹرویو

اسلام آباد ۔ 13اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشی اشاریوں میں مثبت رجحان بحال ہوچکا ہے، ملک میں نوول کورونا وائرس کی وبا اب بھی موجود ہے ، چین نے کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کیلئے پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے،حالیہ وبا کے پاکستانی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات پر قابو پالیا گیا ہے،چین اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاونڈیشن کی جانب سے پاکستان کو کورونا وائرس کی ویکسین فراہم کی جائے گی، چین کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت قابل ستائش ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوںنے خصوصی انٹرویو میں کیا ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ لاک ڈائون ختم کرنے کے احکامات جاری کرتے وقت بھی حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں واضح کمی آئی ہے جس کے پیش نظر ملک میں ہر قسم کی کاروباری سرگرمیاں بحال کی جارہی ہیں، تاہم یہ وبا اب بھی پاکستان میں موجود ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں کورونا وائرس ختم ہونے کے بعد اس وباکی دوسری لہر سامنے آئی ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں چین کے چند صوبوں میں بھی اس کے چند مریض سامنے آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوول کورونا وائرس کی ویکسین عام ہونے تک احتیاط لازمی ہے اور حکومت عوام تک یہی پیغام پہنچانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کیلئے مسلسل اقدامات بھی اختیار کئے جارہے ہیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ روس کی جانب سے ویکسین تیار کرنے کے اعلان کے بعد مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی 2 ذرائع سے ویکسین کی دستیابی کا عندیہ دیا گیا تھا، جبکہ حکومت کی کوشش ہے کہ نوول کورونا وائرس کی ویکسین کی پاکستان میں دستیابی جلد سے جلد ممکن بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے گاوی یعنی گلوبل الائنس فار ویکسینیشن نامی اقدام اٹھایا گیا ہے، جس پر پاکستان بھی دستخط کرچکا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مذکورہ اقدام کے تحت معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک کو ویکسین کی مجموعی طلب کا 20 فیصد حصہ گاوی کی طرف سے فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ چین میں 2 مختلف اقسام کی ویکسین پر کام جاری ہے، جبکہ چینی سفیر ژاو جنگ نے 12 اگست کو ہونے والی ملاقات کے دوران بتایا ہے کہ پاکستان کو ترجیحی بنیادوں پر کورونا وائرس کی ویکسین فراہم کی جائے گی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ نوول کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے پر اس سے متعلق ادویہ اور آلات کی دستیابی کم ہوگئی تھی، تاہم چین کی جانب سے پاکستان کو خصوصی تعلقات کی وجہ سے وباپر قابو پانے کیلئے وینٹی لیٹر سمیت تمام ضروری اشیاء فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے مختلف سہولیات عطیہ بھی کی گئیں، جن کی ایک مثال اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں موجود متعدی امراض کے خصوصی ہنگامی ہسپتال کا قیام بھی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چین نے اس وبا سے سب سے پہلے متاثر ہونے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان کے ساتھ اپنے تجربات اور معلومات کا بھی تبادلہ کیا، جس کیلئے طبی ماہرین کی خصوصی ٹیم پاکستان بھیجی گئی۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ حالیہ وبا کے آغاز پر وزیر اعظم عمران خان کی طرح دنیا کے مختلف ممالک کی بھی یہی حکمت عملی رہی کہ لاک ڈاؤن کے ذریعے کورونا وائرس کی وباکو ختم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ عالمی سطح پر اس امر کا انکشاف ہوا کہ لاک ڈاؤن ختم ہونے پر یہ وبا دوبارہ پھیل جاتی ہے، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے جس سے معاشی سرگرمیاں بھی جاری رہیں اور روزگار کی فراہمی کے ساتھ کورونا وائرس کی وبا پر بھی پایا جاسکے۔ اسد عمر نے کہا کہ اپریل کے وسط میں تشخیص، ٹریکنگ اور قرنطینہ کا نظام تشکیل دیا گیا جس پر عملدرآمد کیلئے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ وقت میں 10 ہزار 500 سے زائد افراد کی ٹیم ایسے افراد سے رابطہ کرنے کیلئے سرگرم رہتی ہے جو کورونا وائرس میں مبتلا مریض سے ملاقات کرچکے ہو ں۔ اسد عمر نے کہا کہ جون کے تیسرے اور چوتھے ہفتے کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس میں مبتلاافراد کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ صورتحال کے دوران ملک میں سیکڑوں سمارٹ لاک ڈاؤن جاری تھے، جبکہ موجودہ وقت میں ملک کے 20 اضلاع میں 87 سمارٹ لاک ڈاؤن جاری ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ نے کہا کہ وبا کے دوران حکومت کے اقدامات کی بدولت ایف بی آر کے محصولات اور برآمدی صورتحال ایک بار پھر وبا سے پہلے فروری کے اعداد و شمار پر واپس آچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں نوول کورونا وائرس کے معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات پر تقریباً قابو پالیا گیا ہے۔ ا