چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی جنرل محمد افضل کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ 2 اگست (اے پی پی)نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا ہے کہ کراچی میں ندی نالوں کے اطراف تجاوزات، سیوریج اور دوسرے پانی کا الگ الگ نظام نہ ہونے اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث ایک گھنٹہ میں 80 سے 83 ملی میٹر بارش کی وجہ سے کراچی میں پانی جمع ہو گیا، حکومت کی جانب سے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت پاک فوج تمام متاثرہ علاقوں تک پہنچ چکی ہے، کل پیر کو بڑے پیمانے پر کام شروع ہو گا، ہماری توجہ رواں ماہ کے دوران 7، 8 اگست، 15 اگست اور 24 تا 26 اگست کی بھاری بارشوں سے ممکنہ نقصانات سے بچنے کیلئے اقدامات اٹھانا ہیں، مستقل حل کرکے تمام سٹیک ہولڈرز کا اتفاق رائے ضروری ہے، دنیا میں سالڈ ویسٹ آمدن کا ذریعہ جبکہ ہمارے لئے سالڈ ویسٹ زحمت بن چکا ہے۔ وہ اتوار کو پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ وفاق کی جانب سے مون سون کے سیزن کے دوران ممکنہ بارشوں سے نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے فوج کو طلب کیا گیا ہے، ایف ڈبلیو او اور دیگر ادارے کراچی کور ہیڈکوارٹرز کی زیر نگرانی کام کر رہے ہیں، ایف ڈبلیو او کو کراچی کے وہ علاقے دیئے گئے ہیں جہاں بڑے بڑے ندی اور نالے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے اگست اور ستمبر کے اوائل میں کراچی میں بارشوں سے متعلق پیشنگوئی حاصل کر لی ہے، 40 سے 65 فیصد بارشوں کا امکان ہے، اس پیشنگوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اپنی تیاریاں کر رہے ہیں تاکہ پہلی بارش سے جو نقصانات ہوئے ہیں وہ ان آنے والی بارشوں میں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاک فوج اور اس کے متعلقہ ادارے کراچی میں جو کام کر رہے ہیں وہ مستقل حل نہیں ہے، ہمیں کراچی کے یومیہ اکٹھا ہونے والے سالڈ ویسٹ پر توجہ دینا ہو گی جس میں سے صرف 3، 4 ہزار ٹن سالڈ ویسٹ اٹھایا جاتا ہے، باقی ندی نالوں میں جا کے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر کراچی کا دورہ کیا اور بارش سے ہونے والے نقصانات کا ابتدائی جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1995ءمیں کراچی کے نالوں کی چوڑائی 300، 400 میٹر تھی جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کئی کئی جگہوں پر بمشکل 3، 4 میٹر رہ گئی ہے جبکہ نالوں کے اطراف تجاوزات کی بھی بھرمار ہو چکی ہے۔ دوسری جانب سیوریج اور دوسرے پانی کیلئے الگ سے نظام نہیں ہے، اسی لئے پانی نکل جاتا ہے اور سیوریج پیچھے بیٹھ جاتی ہے جس سے پانی کے بہاﺅ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلہ میں ہم نے ندی، نالوں میں حائل رکاوٹیں دور کرنی ہیں، اس مسئلہ کے مستقل حل کیلئے دوسرے مرحلہ میں تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کہا کہ کراچی میں نکاسی آب کے بہاﺅ کو رواں دوراں رکھنے کیلئے سپارکو کی مدد سے پانی کے روٹ کو بھی دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں نکاسی آب کیلئے جدید سیوریج سسٹم، قانونی اور غیر قانونی تجاوزات کو ہٹانے اور اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دورہ کراچی کے دوران وزیراعلیٰ سندھ، گورنر سندھ سے 2، 2 ملاقاتیں ہوئیں اور صورتحال کے بارے میں بات چیت ہوئی جس میں انہیں آگاہ کیا ہے کہ ہماری ترجیح ہے کہ رواں ماہ ہونے والی بارشوں سے نقصانات کم سے کم ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل اور کورونا وائرس کے خلاف ایک پلیٹ فارم سے کاوشیں رنگ لائی ہیں، اب صورتحال کافی بہتر ہے اور ملک میں خوراک کی بھی کسی قسم کی قلت نہیں۔