کورونا وائرس وبائی مرض نہ صرف عالمی سطح پر غربت سے لڑنے اور امن کے قیام میں سخت حالات میں کامیابی سے حاصل ہونے والے ترقیاتی فوائد کے لیے خطرہ بن گیا ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس

نیویارک۔13اگست (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس وبائی مرض نہ صرف عالمی سطح پر غربت سے لڑنے اور امن کے قیام میں سخت حالات میں کامیابی سے حاصل ہونے والے ترقیاتی فوائد کے لیے خطرہ بن گیا ہے بلکہ موجودہ تنازعات کو بڑھانے اور نئے پیدا کرنے کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ استحکام امن کے بنیادی تصور مثبت امن کو برقرار رکھنا ہے جس کا مطلب لڑائی کے خاتمے کے لیے کسی ملک کے ساتھ عالمی برادری کے تعاون سے صرف بندوقیں خاموش کرانا ہی نہیں بلکہ اس سے بالاتر ہو کر لوگوں میں تحفظ اور نمائندگی کا احساس پیدا ہونا ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ وبائی امراض نے پوری دنیا میں مستحکم امن کے حصول کو چیلنجز میں ڈال دیا ہے۔صحت کے نظاموں کے موثر ہونے اور دنیا بھر میں اداروں اور حکومتوں پر اعتماد پر اٹھنے والے سوالات کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ان سب کا مطلب یہ ہے کہ امن کو برقرار رکھنے کے لئے ہماری وابستگی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ صحت اور انسانی المیوںکے متعلق حساس اور مربوط نقطہ نظر سے پائیدار امن کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم انہوں نے عوامی اعتماد کے خاتمے کے ساتھ شروع ہونے والے تین عالمی چیلنجز پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہر سطح پر اتھارٹی میں بڑے پیمانے پر بے چینی پھیل سکتی ہے۔ دوم، انہوں نے غیر مستحکم عالمی معاشی نظام پر تشویش کا اظہار کیا، جس نے دنیا کو غیرمعمولی عالمی معاشی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس ماحول میں معاشرتی اور معاشی کمزوریوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ سوم، انہوں نے معاشرتی تانے تانوں بانوں میں پیدا ہونے والی کمزوری کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سارے پرامن احتجاج دیکھے ہیں، اور متعدد ممالک میں، کووڈ۔19 کو سخت کریک ڈاؤن اور ریاستی جبر میں اضافے کے بہانے کے طور استعمال کیا گیا اور دنیا کے تقریباً 23 ممالک میںقومی انتخابات یا ریفرنڈم ملتوی کردیئے گئے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وبائی مرض نے ان سب کے ساتھ امن کے مواقع بھی پیدا کردیئے ہیں، جن میں اقوام متحدہ کے سربراہ کی جانب سے ایک سال کے لیے عالمی جنگ بندی کی اپیل بھی شامل ہے، سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2532 نے تمام حالات میں عام اور فوری طور پر لڑائی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جو کہ گٹریش کے مطابق’ صحیح سمت میں ایک قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ابتدائی فوائد کو ٹھوس بنانے کے لیے اور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔سیکرٹری جنرل نے یہ واضح کیا کہ وبائی نوعیت کے ردعمل تنازعات سے متعلق حساس ہونے چاہییں، اس بات کا آغاز کثیر جہتی تجزیہ سے ہونا چاہیے کہ کسی وبا سے پیدا ہونے والے عوامل کس طرح سے تنازعہ پیدا کرنے والے بنیادی خطرات کو متاثر کرتے ہیں ۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ امن کو برقرار رکھنے کے لئے انسان دوستی، ترقی اور امن کے کارکنوں کے درمیان ایک مربوط طرز عمل کی ضرورت ہے۔اجتماعی ردعمل کو بہتر بنانے میں مدد کرنے کے لیے پیس بلڈنگ کمیشن کے ساتھ سلامتی کونسل کا جاری تعاون اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ- 19 ایک انسانی المیہ ہے، تاہم ہم اپنے انتخاب سے اس کے اثرات کو کم کرسکتے ہیں۔