بین الافغان مذاکراتی عمل میں تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، وزیر اعظم عمران خان کا واشنگٹن پوسٹ کے آرٹیکل میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ بین الافغان مذاکراتی عمل میں مزید مشکلات آ سکتی ہیں تاہم اس کے لئے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، مذاکراتی عمل میں سست روی اور دشواری بھی آسکتی ہیں، یہاں تک کے کبھی کبھار ڈیڈ لاک بھی پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ افغان اپنے مستقبل کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں، ایسے مواقعوں پر ہم اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انہیں یاد دلاتے رہیں گے کہ مذاکرات کی میز پر بغیر کسی خون خرابے کے ڈیڈ لاک میدان جنگ کے خون ریز حل سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن پوسٹ کے تازہ ترین شمارے میں ایک آرٹیکل میں اپنی رائے دیتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا ان تمام فریقین کو جنہوں نے افغان امن عمل میں اپنا حصہ ڈالا ہے انہیں غیر حقیقت پسدانہ طور پر مدت مقرر کرنے کی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے اپنا عمل دخل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان سے اقوام عالم کا جلد بازی میںانخلا غیر دانشمندانہ ہوگا۔ آرٹیکل میں وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ان علاقائی عناصر سے بھی بچنا ہوگا جن کی امن عمل میں سرمایہ کاری نہیں اور وہ اپنے جغرافیائی مفادات کی خاطر افغانستان میں عدم بدامنی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امن کی جانب پہلا قدم دوحہ میں اٹھایا گیا تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک متحدہ ، آزاد اور خود مختار افغانستان کی جدوجہد میں افعان عوام کی حمایت جاری رکھے گا جس سے افغانستان کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک میں امن قائم ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ امن مذاکرات میں کوئی زور زبردستی نہیں ہونی چاہیے اور تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کریں۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جیسا کہ افغان حکومت نے طالبان کو ایک سیاسی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے اور یہ امید ہے کہ طالبان پیشرفت کو قبول کریں گے ، جو اب تک افغانستان نے کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا کی طرح پاکستان بھی کبھی نہیں چاہتا کہ افغانستان پھر کبھی بین الاقوامی دہشتگردی کی آماجگاہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے نائن الیون سانحہ ہوا ہے تو 80 ہزار سے زیادہ پاکستانی سکیورٹی اہلکار اور شہری دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑی اور کامیاب ترین جنگ میں اپنی جانوں کے نظرانے پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر بھی پاکستان کو افغانستان میں مقیم باہر سے آئے دہشتگرد گروپوں کی طرف سے مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔یہ دہشتگرد گروپ عالمی امن کیلئے واضح خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے آرٹیکل میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت اپنی حدود میں غیر منظم ٹھکانوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گی جہاں سے دہشتگرد گروپ افغان عوام ،افغانستان میں قیام پذیر بین الاقوامی اتحادی افواج اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک پر حملے کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا کی ہم بھی نہیں چاہتے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جو جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے وہ رائیگاں چلاجائے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ آنے والے کل کیلئے منصوبہ بندی کی جائے کہ جنگ کے بعد کے افغانستان کو پائیدار امن منتقل کرنے میں دنیا کیسے مدد کرسکتی ہے ؟ کیسے پاکستان اور دیگر ممالک میں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کیلئے ساز گار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ باوقار طریقے سے وطن واپس جا سکیں ۔ وزیر اعظم بین الافغان مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل افغانستان اور خطے کیلئے اہم موڑ پر داخل ہو چکا ہے۔ 12ستمبر کوافغان حکومت اور طالبان کے وفود قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کو سیاسی حل کی جانب لانے کیلئے اکٹھے ہوئے جس سے افغان جنگ کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے سوا پاکستانی عوام سے بڑھ کر کسی نے افغان جنگ کی قیمت ادا نہیں کی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ دہائیوں پر محیط جنگ کے دوران پاکستان نے 40لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی ذمہ داری کے ساتھ دیکھ بھال کی ، اسلحہ اور منشیات ہمارے ملک میں داخل ہوئیں ، جنگوں نے ہماری معاشی ترقی کو متاثر کیا اور ہمارے معاشرہ خود بگاڑ کا شکار ہوا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان 1960 اور 1970 کی دہائی میں ترقی کی جانب بڑھ رہا تھا کچھ غیر مستحکم واقعات نے اسے بدل کر رکھ دیا ۔ اس تجربے نے انہیں دو اہم سبق سیکھے، پہلا یہ کہ افغانستان جغرافیا ، ثقافت اور رشتوں کے اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب ہیں ، ان کے ملک میں ہونے والے کوئی واقعات ایسے نہیں جن کا پاکستان پر سایہ نہ پڑے جب تک ہمارے افغان بہن ، بھائی پر امن نہیں ہوںگے پاکستان میں حقیقی امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ افغان مالیتی اور افغان قیادت میں مفاہمتی عمل کے ذریعے ہی افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے ،اس کیلئے افغانستان کے سیاسی حقائق اور جہتوں کو سمجھنا ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کیلئے علاقائی امن اور استحکام اہمیت کا حامل ہے جو ہمارے عوام کی اجتماعی امنگوں کیلئے قلیدی حیثیت رکھتا ہے ، ہم اس کے حصول کیلئے کثیر الجہتی تعاون کیلئے پر عزم ہیں۔ افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 کے آخر میں مجھے خط لکھا اور افغانستان میں سیاسی حل پر بات چیت کیلئے پاکستان کی مدد طلب کی اور انہیں امریکی صدر کو اس بات کی یقین دہانی کرانے میں کو ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی کہ پاکستان کسی بھی ایسے حل میں سہولت کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا اور ہم نے کیا ۔ اس طرح امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے مشکل مرحلے کا آغاز ہوا اور فروری میں امریکا۔ طالبان امن معاہدے پر اختتام پذیر ہوا۔ اس معاہدے نے بعد میں افغان قیادت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے راہ ہموار کی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے یہاں تک پہچنے کیلئے جو راستہ اختیار کیا وہ آسان نہیں تھا لیکن تمام فریقین کی طرف سے جس ہمت اور لچک کا مظاہرہ کیا گیا اس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں ۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کابل اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں سہولت دی ہے ۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان کیلئے میرا وژن اور ترجیحات منسلکی اور اقتصادی سفارت کاری کے ذریعے میرے ملک اور ہمارے خطے کی ترقی اور خوشحالی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقتصادی منصوبوں میں حالیہ سرمایہ کاری سے استفادہ کر سکتے ہیں ، جس سے جنوبی اور وسط ایشیاء کے درمیان علاقائی سالمیت کیلئے مربوط کوششوں کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا ، بین الاقوامی ترقیاتی فنانس کارپوریشن کے ساتھ ان مسائل پر ابتدائی بات چیت حوصلہ افزا رہی ہے۔