حکومت ملک میں سرمایہ کاری، جامع معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے ، صنعتی ترقی اور برآمدی پیداوار کو فروغ دینے جیسے اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہے، وزیر مملکت اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری کی اے پی پی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 17ستمبر(اے پی پی) وزیر مملکت اور چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ عاطف بخاری نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری، جامع معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ، صنعتی ترقی اور پاکستان میں برآمدی پیداوار کو فروغ دینے جیسے اہداف کے حصول کیلئے کوشاں ہے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لئے 5 شعبوں کو اولین ترجیحات میں رکھا گیا ہے،اقتصادی زونز ایک خوشحال اور صنعتی پاکستان کا باعث بنیں گے، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نجی شعبے کو آگے آکر قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ جمعرات کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسیاں مرتب کرنا ہماری ترجیح ہے جس سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لائی جا سکے جس کے لئے سرمایہ کاری بورڈ نے پانچ شعبوں کو ترجیح بنایا ہے، ان شعبوں میں آئی ٹی انڈسٹری، ہائوسنگ و تعمیرات، فوڈ پراسیسنگ و زراعت، سیاحت اور لاجسٹکس شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی فریم ورک کو ہم اپنی ویب سائٹ پر بھی لا رہے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو بتایا جا سکے کہ پاکستان ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کیا سہولیات اور مراعات فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ وزارتوں کے تعاون سے ہم نے حال ہی میں دو پالیسیاں بنائی ہیں ایک الیکٹریکل وہیکل پالیسی اور موبائل فونز کی تیاری کی پالیسی شامل ہیں۔ ان دونوں کے حوالے سے ہمیں چینی بھائیوں بلکہ یورپی ممالک سے بھی دلچسپی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ملٹی نیشنل کمپنیاں اس میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لئے بہت کام ہوا ہے۔ کووڈ۔19 کی وجہ سے جو سلسلہ رک گیا تھا وہ اب دوبارہ شروع ہو گیا ہے جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ ایک آسٹریلیا کا وفد آیا تھا جس نے ہمارے شمالی علاقہ جات دیکھے تھے اور یہ سلسلہ اب آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے اولین ضرورت امن و امان کی صورتحال ہوتی ہے اور گزشتہ دو سالوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ۔19 ایک بہت بڑا چیلنج تھا، اگر یہ نہ ہوتا تو پوری دنیا سے بڑے سرمایہ کار پاکستان آچکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ اور امریکا سے بڑی کمپنیاں بھرپور دلچسپی لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت اقتصادی زونز کے قیام سے ایک خوشحال اور صنعتی پاکستان بنے گا۔ ان زونز میں ٹیکسٹائل انجینئرنگ، بجلی اور الیکٹرانکس، کیمیکل پینٹ، زراعت اور فوڈ پروسیسنگ، اسٹیل اور پیکیجنگ کے شعبے میں صنعتیں قائم کی جائیں گی۔ پاک چین جغرافیائی قربت ان اقتصادی زونز کی آباد کاری اور باہمی معاشی فوائدکے حصول میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری بورڈ نے اقتصادی زونز کو تمام سہولیات کی فراہمی و مراعات دینے کا عمل تیز کردیا ہے۔