صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا سائبر/انفارمیشن سکیورٹی کے بارے میں ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 16 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کی سائبر سپیس کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام ملکی شہریوں، کاروباروں اور سرکاری اداروں کے آن لائن ڈیٹا کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے، پاکستان نے ڈیجیٹلائزیشن کی جانب سفر شروع کیا ہے جس سے سائبر حملوں کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں، اس حوالہ سے مربوط اقدامات کئے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایوان صدر میں سائبر/انفارمیشن سکیورٹی کے بارے میں ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے افراد اور اداروں کی معلومات اور سائبر سپیس کی سکیورٹی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ صدر مملکت نے ملک کی سائبر سپیس کو محفوظ بنانے کیلئے تمام شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے استعمال اور چوتھے صنعتی انقلاب سے افراد اور اداروں کیلئے سائبر حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں، ان سے بچائو کیلئے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ملک میں قومی مفاد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ افراد، کاروباروں اور سرکاری شعبہ سے متعلق معلومات کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے ایک محفوظ انفارمیشن ایکو سسٹم تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے تمام شراکت داروں کو ہدایت کی کہ ملک میں افراد اور اداروں کے مفادات سے متعلق پرائیویسی اور انفارمیشن کے تحفظ کیلئے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی شعیب احمد صدیقی اور وزارت کے دیگر سینئر افسران کے علاوہ ایڈوائزری کمیٹی کے ممبران نے بھی شرکت کی۔