صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا وحدتِ امت کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 21 ستمبر (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بین المذاہب ہم آہنگی، اتحاد اور مذہبی رواداری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ایک قوم بننے کیلئے تفرقہ سے بچنا چاہیے،قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی تقاریر میں ہمیشہ تفرقہ بازی سے بچنے کا درس دیا، قوم نے متحد ہو کر کورونا وبا ، دہشت گردی اور انتہاءپسندی کو شکست دی ہے، بھارتی حکومت کے اقدامات کے باعث بھارت نفرت کے گڑھے میں گر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وحدتِ امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ قرآنی تعلیمات ہماری رہنمائی کرتی ہیں، مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آپس میں تفرقہ نہ ڈالیں، تفرقہ اور نفاق سے مسلمانوں کو نقصان پہنچا، ہمیں اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے، ایک قوم بننے کیلئے ہمیں تفرقہ سے بچنا چاہیے، بعض مذہبی رہنما جذبات میں آ کر ایسی باتیں کر جاتے ہیں جن سے نفرتیں بڑھتی ہیں، علمی اور فروعی اختلافات اپنی جگہ پر تاہم جہالت پر مبنی اختلاف تفرقہ کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماءکرام عوام کو اسلامی تعلیمات سے متعلق رہنمائی فراہم کرتے ہیں، بیرون ملک سازشوں کے باعث پاکستان میں مساجد اور امام بارگاہوں میں بم دھماکے ہوئے ہیں، فروعی اختلافات کے باوجود عام عوام فرقہ وارانہ جھگڑوں میں نہیں پڑے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند دہائیوں میں سازشوں کے ذریعے ایران اور عراق کے درمیان جنگ کرائی جاتی رہی، عالمی طاقتوں نے اپنا اسلحہ فروخت کرنے کیلئے یہ جنگیں کرائیں، ایران عراق جنگ میں 10 سال کے دوران تقریباً لاکھ افراد جانوں سے گئے، آپس کی نااتفاقی و ناچاقی نے عراق اور شام کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی تقاریر میں ہمیشہ تفرقہ بازی سے بچنے کا درس دیا، ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کے طرزعمل سے گریز کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کامیابی سے جنگ لڑی، پاکستان نے متحد ہو کر کورونا وبا کا مقابلہ کیا، حکومت نے احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کی، اﷲ کو وہی پسند ہے جو دوسروں کی فکر کرے، علماءکرام اور مشائخ عظام نے کورونا وبا سے متعلق مساجد کے ذریعے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مساجد میں عبادات کا سلسلہ جاری رہا جس سے اﷲ کی رحمت اور برکت نازل ہوئی، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ امت کی وحدت کا مرکز ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن میں نفاق نہیں ہوتا، دنیائے اسلام پاکستان کی طرف دیکھتی ہے کہ وہ ہماری قیادت کرے گا، وزیراعظم عمران خان نے اسلام کے خلاف نفرت اور حضور اکرم کی ناموس کے تحفظ کیلئے عالمی سطح پر دوٹوک مو¿قف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اقلیتوں کے ساتھ مثالی سلوک کا عہد کیا ہے،بی جے پی حکومت کے اقدامات کے باعث بھارت نفرت کے گڑھے میں گر رہا ہے، وہ اپنے لئے گڑھا خود کھود رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ہم آہنگی اور اشتراک کو فروغ دینا ہے تاکہ کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ دنیا کی سمجھ میں آئے، اقوام متحدہ کو کشمیر اور فلسطین پر اپنا اصولی کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا غلبہ اقدار اور اصولوں کی بنیاد پر ہو گا، یہ وہی اصول اور اقدار ہوں گی جس پر مسلمانوں نے اس سے پہلے عمل کیا تھا اور دنیا میں عروج حاصل کیا، علماءکرام کے آپس میں اور ریاست کے ساتھ مسلسل روابط سے ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے، پاکستان اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں بہتری اس کا مقدر ہے۔ اس موقع پر صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پیر نورالحق قادری اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماءکرام بھی موجود تھے۔