صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت وحدت ا±مت کانفرنس میں مختلف مکاتب فکر کے علماءکرام کا 10 نکاتی مشترکہ اعلامیہ

اسلام آباد ۔ 21 ستمبر (اے پی پی) مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماءکرام نے 10 نکاتی مشترکہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ مذہب کے نام پر دہشت گردی، انتہاءپسندی، فرقہ وارانہ تشدد، قتل و غارت گری خلافِ اسلام ہے اور تمام مکاتبِ فکر اور تمام مذاہب کی قیادت اس سے مکمل لاتعلقی کا اعلانِ کرتی ہے، حکومت قومی ایکشن پلان پر بلا تفریق مکمل عمل کرائے، پیغامِ پاکستان ایک متفقہ دستاویز ہے جس کو قانونی شکل دینے کے لئے فوری طور پر مشاورتی عمل شروع کیا جائے۔ پیر کو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت وحدت ا±مت کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر دہشت گردی، انتہاءپسندی، فرقہ وارانہ تشدد، قتل و غارت گری خلافِ اسلام ہے اور تمام مکاتبِ فکر اور تمام مذاہب کی قیادت اس سے مکمل اعلانِ برات کرتی ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کوئی مقرر، خطیب، ذاکر یا واعظ اپنی تقریر میں انبیائؑ ، اہلِ بیت اطہار، اصحابِ رسول، خلفائے راشدین ، ازواجِ مطہرات، آئمہ اطہار اور حضرت امام مہدی کی توہین، تنقیص اور تکفیر نہ کرے گا اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو تمام مکاتبِ فکر اس سے اعلانِ برات کرتے ہیں۔ ایسے شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر قرار نہ دیا جائے اور کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرار نہ دیا جائے اور پاکستان کے آئین کے مطابق تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ اپنی ذاتی اور مذہبی زندگی گزاریں۔ شرانگیز اور دل آزار کتابوں، پمفلٹوں، تحریروں کی اشاعت، تقسیم و ترسیل نہ ہو، اشتعال انگیز اور نفرت آمیز مواد پر مبنی کیسٹوں اور انٹرنیٹ ویب سائٹس پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ دل آزار اور نفرت آمیز اور اشتعال انگیز نعروں سے مکمل اعراض کیا جائے گا اور آئمہ، فقہ، مجتہدین کا احترام کیا جائے اور ان کی توہین نہ کی جائے۔ عوامی سطح پر مشترکہ اجلاس منعقد کرکے ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔ پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی رہتے ہیں لہٰذا شریعتِ اسلامیہ کی ر±و سے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں، ان کے مقدسات اور ان کی جان و مال کا تحفظ بھی مسلمانوں اور حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری ہے لہٰذا غیر مسلموں کی عبادت گاہوں، ان کے مقدسات اور ان کے جان و مال کی توہین کرنے والوں سے بھی سختی کے ساتھ حکومت کو نمٹنا چاہئے۔ حکومت قومی ایکشن پلان پر بلا تفریق مکمل عمل کرائے۔ پیغامِ پاکستان ایک متفقہ دستاویز ہے جس کو قانونی شکل دینے کے لئے فوری طور پر مشاورتی عمل شروع کیا جائے۔ شریعتِ اسلامیہ میں فتویٰ کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں دیا جانے والا فتویٰ ہی معتبر ہوگا۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف دیئے جانے والے فتووں پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔ محرم الحرام کے دوران اور اس سے قبل مقدس شخصیات کی توہین، تکفیر کرنے والے عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور مجرمین کو جلد از جلد سزائیں دی جائیں۔