قومی معیشت میں فیصل آباد کا حصہ 20 فیصد ہے ، کورونا کے دوران متعارف کرائی گئی سکیموں میں اپنا حصہ بڑھا ترقی کی شرح میں تیزی لا سکتا ہے گورنر سٹیٹ بینک کا فیصل آباد چیمبر آف کامرس میں تقریب سے خطاب

فیصل آباد 09 ستمبر ( اے پی پی ) : گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ قومی معیشت میں فیصل آباد کا حصہ 20فیصد ہے مگر کرونا بحران کے منفی اثرات پر قابو پانے کیلئے متعارف کرائی جانے والی مختلف سکیموں کے استعمال میں فیصل آباد کا حصہ بہت کم ہے جسے بڑھا کے ترقی کی شرح کو تیزی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ وہ آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں ڈپٹی گورنر محترمہ سیما کامل چیمہ اور سٹیٹ بینک کے دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔ گورنر نے کہا کہ کمرشل بینک مسائل کے آئوٹ آف بکس حل سے گھبراتے ہیں جبکہ کرونا جیسے غیر معمولی حالات میں ایسے اقدامات ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی ڈپٹی گورنر سیما کامل چیمہ کمرشل بینکنگ میں وسیع تجربہ رکھتی ہیں اور زرعی فنانس اور خواتین کیلئے سستے قرضوں کے علاوہ ڈیجیٹلائزیشن جیسے اہم منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ جس سے ایس ایم ای سیکٹر کے مسائل کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کووڈ کے معیشت پر منفی اثرات پر قابو پانے کیلئے سٹیٹ بینک نے جراتمندانہ اور فوری اقدامات اٹھائے لیکن یہ بات بھی ہمارے مدنظر تھی کہ ان سکیموں کا غلط استعمال نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ میں جب کووڈ شروع ہوا تو پالیسی ریٹ 13.25فیصد تھا اس کو تیزی سے کم کر کے 7فیصد پر لایا گیا تاکہ ہمارے تاجر اور صنعتکار دنیا کے دیگر تجارتی حریفوں سے مؤثر طور پر مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت نجی کریڈٹ تقریباً 6ٹریلین ہے جس سے کیش فلو اور آئوٹ پٹ کی صورت میں ہمارے صنعتکاروں کو پالیسی ریٹ میںکمی سے 470ارب روپے سالانہ کی بچت ہو گی۔ اس طرح بینکوں سے لئے گئے 640ارب کے قرضوں کی قسطیں ایک سال کیلئے مؤخرکی گئیں۔ جس سے فائدہ اٹھانے والوں میں 90فیصد چھوٹے یونٹ شامل ہیں۔ نان پرفارمنگ لون کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ بیمار یونٹوں کی طرف سے پہلے سے لئے گئے قرضوں کو ڈبل کر دیا گیاتاکہ وہ بحالی کی سمت میں گامزن ہو سکیں۔ اس طرح اس مد میں انہیں 170ارب روپے کے مارک اپ کا فائدہ ہوا۔ روزگار سکیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کرونا کی وجہ سے نجی شعبہ کے ملازمین کے روزگار کو بچانا انتہائی ضروری تھا۔ اس سلسلہ میں تین فیصد کے مارک اپ پر قرضہ دیا گیا۔ ابتدائی طور پر یہ سکیم 3مہینے کیلئے تھی مگر بعد میں اس کو چھ ماہ تک بڑھا دیا گیا ۔ اس سکیم کے تحت 180ارب روپے کے قرضے جاری کئے جا چکے ہیں ۔ اس سے قرض لینے والوں کی لیکویڈیٹی پر تقریباً 1000ارب کا اثر پڑا۔ انہوں نے کووڈ پر قابو پانے کی حکومتی کوششوں کو بھی سراہا اورکہا کہ لانگ ٹرم فنانس سکیم کی طرحTemporary Economic Refinance Schemeشروع کی گئی ۔ یہ ابتدائی طور پر پانچ برآمدی سیکٹرز تک محدود تھی جسے ایک سال کیلئے ہر سیکٹر کیلئے کھول دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سہولت 30مارچ تک دستیاب ہو گی ۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک سیما کامل چیمہ نے کہا کہ بیمار یونٹوں کی بحالی معیشت کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سٹیٹ بینک قرض لینے والوں اور قرض دینے والوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سٹیٹ بینک نے خواتین کیلئے بھی کئی سکیمیں شروع کی ہیں جبکہ کمرشل بینکوں کے بارے میں ایس ایم ای سیکٹر کی شکایات کے فوری ازالہ کیلئے فیصل آباد سمیت کئی چیمبرز میں سٹیٹ بینک کے ہیلپ ڈیسک قائم کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اس نظام کو ڈیجیٹل ، آن لائن اور آٹو میٹک کیا جا رہا ہے جبکہ اس کا باضابطہ افتتاح بہت جلد ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد چیمبر میں قائم ہیلپ ڈیسک کے ذریعے ری فنانس سکیم کے تحت 5ارب روپے کا قرضہ دیا گیا جس سے 50ہزار ملازمین کا روزگار محفوظ ہوا۔ خواتین کیلئے سستے قرضوں کی سکیمیں متعارف کروائیں ری فنانس کی سکیم 30ستمبر سے ختم ہو رہی ہے ۔ قبل ازیں صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں نے گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کی طرف سے قومی معیشت کی بحالی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ سٹیٹ بینک جو بھی سکیم متعارف کرائے اس سلسلہ میں چیمبرز کو بھی اعتماد میں لیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اُن سے بروقت فائدہ اٹھا سکیں۔ اس موقع پر صدر رانا محمد سکندر اعظم خاں نے میاں محمد ادریس کے ہمراہ گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کو فیصل آباد چیمبر کی اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔ اپنی آمد کے فوراً بعد گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے لان میں پودا لگایا اور ایف سی سی آئی نیو کمپلیکس کے سلسلہ میں سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے میاں محمد ادریس کے ہمراہ ایف سی سی آئی میں سٹیٹ بینک کے ہیلپ ڈیسک کے افتتاح کے سلسلہ میں ربن بھی کاٹا۔