موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے پاکستان 2025ء تک اپنی توانائی کی پیداوار پرانی تھرمل ٹیکنالوجی سے متبادل گرین ٹیکنالوجی پر منتقل کر دے گا، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تغیرات ملک امین اسلم کا ورلڈ اوزون ڈے کے حوالے سے تقریب سے خطاب

لاہور۔16ستمبر (اے پی پی ) وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تغیرات ملک امین اسلم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کیلئے پاکستان 2025ء تک اپنی توانائی کی پیداوار کو پرانی تھرمل ٹیکنالوجی سے متبادل گرین ٹیکنالوجی(ونڈ،سولر و ہائیڈل جنریشن) پر منتقل کر دے گا،موسمیاتی تغیرات کے مستقل حل کیلئے عالمی سطح پر متحد ہونے کی ضرورت ہے اس سلسلہ میں پاکستان اہم کردار ادا کرر ہا ہے،گزشتہ حکومت نے کول پاور پلانٹس متعارف کروا کر جرم کیا تاہم موجودہ حکومت نے3700میگاواٹ کے ہائیڈرو پاور پلانٹس لانے کا فیصلہ کیا ہے ،سی پیک کے تحت تمام انرجی کے منصوبوں کو گرین ٹیکنالوجی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔وزارت موسمیاتی تغیرات اور ہیٹنگ،وینٹیلیشن اینڈ ریفریجریشن سوسائٹی کے زیر اہتمام بدھ کے روز ورلڈ اوزون ڈے کے حوالے سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ اثر انداز ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سرکاری اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کروا رہی ہے جسے گرین ایریا میں تبدیل کیا جا رہا ہے کیونکہ گرین ایریاز زمین کیلئے پھیپھڑوں کا کام کرتے ہیںِ،انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ حکومت نے حال ہی میں بلوکی میں 3500ایکڑ اراضی کو قابضین سے واگزار کروا کر وہاں نیشنل پارک اور جنگل بنانے کا اعلان کیا ،ملک امین اسلم نے کہا کہ پاکستان دنیا کے موسمی تغیرات سے متاثرہ5ممالک میں شامل ہے جو اس سے بہت زیادہ اثر انداز ہوئے کیونکہ وطن عزیز کو سیلاب ،اربن فلڈنگ اور مون سون سسٹم میں تبدیلی نے بہت متاثر کیا۔ انہوں نے گزشتہ 35سالوں میں اوزون کی تہہ میں ریکوری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مانٹریل پروٹوکول پر کامیابی سے عملدرآمد میں نمایاں کردار ادا کیا،انہوں نے کہا کہ قدرت نے اوزون کی تہہ کی شکل میں ایک حفاظتی شیلڈ رکھی ہے جو زمین کو الٹرا وائلٹ شعاعوں کے اثرات سے محفوظ رکھتی ہے،انہوں نے کہا کہ مانٹرئیل پروٹوکول ویانا کنونشن کا حصہ ہے جسے کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے ،ملک امین اسلم نے کہا کہ 4چیزیں ماؤنٹیریل پروٹوکول کی کامیابی کو یقینی بناتی ہیںجو اوزون کی تہہ کی بحالی کے واضح ہدف میں شامل ہونی چاہئیں جن میں مسائل کے حل کا واضح پلان،نئی ٹیکنالوجی متعارف کروانا،فنڈز کو مختص کرنا سر فہرست ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے توقعات سے بڑھ کر ماؤنٹیریل پروٹوکول پر عملدرآمد کیا ہے اور ایچ ایف سی کی درآمد میں25فیصد کے ہدف سے بڑھ کر 50فیصد تک کمی کی ہے،ملک امین اسلم نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق بلین ٹری پرو گرام کو مکمل کیا ہے اور اب ملک بھر میں 10ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اوزون اور موسمیاتی تبدیلی کے مسائل سے بچا جا سکے،ملک امین اسلم نے نجی شعبہ کا پروگرام کے کامیاب انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔