وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ سے ملاقات میں اظہار

اسلام آباد ۔ 29 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کے مسئلہ کے حوالہ سے اپنے دیرینہ مو¿قف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ اس کا واحد حل سیاسی راستہ ہے، آج بین الاقوامی برادری نے اس مو¿قف کے ساتھ ساتھ افغان امن عمل میں سہولت کے لئے پاکستان کے مثبت کردار کا بھی اعتراف کر لیا ہے، امید ہے افغان قیادت اس تاریخی موقع کو تعمیری انداز میں مل کر کام کرنے اور مشترکہ، وسیع البنیاد و جامع حل کے لئے بروئے کار لائے گی، پاکستان افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے افغان فریقین کے مابین کے طے پانے والے حل کی حمایت کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ سے ملاقات میں کیا جنہوں نے منگل کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر عبداﷲ عبداﷲ کا خیرمقدم کرتے ہوئے افغان امن عمل کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے دورے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم نے افغانستان کے مسئلہ کے حوالے سے اپنے دیرینہ مو¿قف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ اس کا واحد حل سیاسی راستہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری نے اس مو¿قف کو تسلیم کر لیا ہے اور افغان امن عمل میں سہولت کے لئے پاکستان کے مثبت کردار کا بھی اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ طالبان معاہدہ ان کوششوں میں ایک بڑا قدم ہے۔ وزیراعظم نے 12 ستمبر کو بین الافغان مذاکرات کے آغاز کے بارے میں میں اس امید کا اظہار کیا کہ افغان قیادت اس تاریخی موقع کو تعمیری انداز میں مل کر کام کرنے اور مشترکہ، وسیع البنیاد و جامع حل کے لئے بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام افغان فریقین کو فائر بندی کے لئے تشدد میں کمی لانے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے افغان فریقین کے مابین طے پانے والے حل کی حمایت کرے گا اور بعد ازاں تعمیرنو و اقتصادی ترقی کے راستے پر افغانستان کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان میں تجارت کے بے پناہ مواقع ہیں جنہیں باہمی فائدے میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تجارت و اقتصادی تعلقات اور عوامی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لئے تمام کوششیں بروئے کار لائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ صدر اشرف غنی کی دعوت پر افغانستان کے اپنے دورے کے منتظر ہیں۔